خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 358

خطبات طاہر جلد ۶ 358 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء کام آسکتے ہیں کیونکہ بہت سے بچے ایسے ہیں وہ میں حیران ہوتا ہوں دیکھ کے کہ اللہ کے فضل۔سے وہ جو بات سنتے ہیں تو قبول کرتے ہیں اور پھر اپنے بڑوں کو بھی نصیحت شروع کر دیتے ہیں۔آج کل کیسٹ سنانے کا رواج ہورہا ہے گھروں میں مختلف ممالک سے اطلاعیں ملتی ہیں کہ خطبات کی کیسٹ یا بعض دوسرے مضامین پر مشتمل ٹیسٹس سناتے ہیں تو بچے بڑے شوق سے سنتے ہیں اور بعض بچوں کو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سنے کا جنون ہو گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ جی ابھی تک آئی کیوں نہیں۔اس کا نیک اثر کس حد تک پیدا ہو رہا ہے اس کا میں اس سے اندازہ کرتا ہوں کہ کئی بچے مجھے یہ خط لکھنے لگ گئے ہیں کہ ہمارے ابا کو جھوٹ کی عادت ہے، ہماری ماں میں یہ عادت ہے، دعا کریں ہمارے بڑے بھائی نماز شروع کر دیں۔اپنے پتے لکھتے ہیں بعض بچے کہ میرے بھائی کا یہ پتا ہے میرے باپ کا یہ پتا ہے اس کو خدا کے لئے خط لکھیں کہ یہ کام نہ کرے بہت بُرا لگتا ہے ہمیں۔تو معلوم ہوتا ہے بچوں کی چونکہ فطرت نسبتاً زیادہ صاف ہے اور خدا کے قریب تر ہے اس لئے ان تک ان باتوں کا اچھا اثر پڑتا ہے۔تو پہلے میں بچوں سے مخاطب ہوں۔جو بچے میری آواز سنیں گے براہ راست یا کیسٹس کے ذریعے وہ یہ فیصلہ کر لیں کہ نہ ہم نے جھوٹ بولنا ہے نہ اپنے ماں باپ کو جھوٹ بولنے دینا ہے۔بچوں کی طرف سے اگر نصیحت ہوگی تو کچھ شرمندہ تو ہوں گے کم سے کم، یہ کیا ہورہا ہے ہمارے گھر ، خدا نے ہمارے سپر د بچے کئے تھے اور ہم نے اپنے آپ کو بچوں کے سپر د کر دیا ہے۔تو بچوں کی طرف سے جو نصیحت آتی ہے وہ بعض دفعہ کاٹتی ہے، بعض دفعہ وہ چر کہ لگا کر بھی اثر پیدا کر دیتی ہے۔موٹی جلد والوں کو چر کہ لگا نا پڑتا ہے اس لئے بچے کی نصیحت بعض دفعہ یہ کام کر جاتی ہے۔پھر بہنیں ہیں اپنی بھائیوں کو نصیحت کریں، مائیں اپنے خاوندوں سے التجاء کریں کہ دیکھو خدا کے واسطے جھوٹ نہ بولو کم سے کم گھر کو تو چھوڑ وسردست اور خاوند اپنی بیویوں کو نصیحت کریں۔یہ چر چا کریں ان باتوں کا۔مجالس میں مذاق کے طور پر بھی جب جھوٹ بولا جائے تو ہنسیں نہیں بلکہ ناراضگی کا اظہار کریں کہ یہ کیا مذاق ہوا یہ تو بڑی بے ہودہ بات ہے۔جھوٹ کے خلاف آپ کا جو جہاد ہے وہ آپ کی بات میں ایک خاص وزن پیدا کر دے گا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ کو اپنی دعاؤں کو بھی رفعت نصیب ہو گی۔آپ کے کلام کی تاثیر کو بھی رفعت نصیب ہوگی۔مطلب یہ ہے کہ جھوٹ نہیں بولیں گے تو مراد ہے سچ بولیں گے۔یعنی یہ