خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد ۶ 357 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء بہت ہو رہی ہیں۔بڑی بری چیز ہے الرجی۔اگر ایک الرجی اگر آپ حاصل کر لیں تو میں سمجھتا ہوں یہ بہت ہی اچھی چیز ہوگی۔یہ جھوٹ کے خلاف الرجی اختیار کر لیں۔برداشت نہ ہو آپ کے اعصاب ٹوٹنے لگ جائیں جھوٹ سنتے ہوں تو۔یہ ایک بہت ہی اہم چیز ہے اور اس معاملے میں مجھے یاد ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی کو تو واقعی الرجی تھی جھوٹ کے ساتھ ، برداشت نہیں ہوتا تھا کسی کے منہ سے۔بہت دفعہ بعض لوگ بڑے بڑے جرم کر کے آپ کے سامنے آتے تھے آپ حمل سے بات کرتے تھے ان کو سمجھاتے تھے غصے کا اظہار نہیں کرتے تھے مگر جہاں کسی نے بہانہ پیش کیا اپنے نفس کا کوئی جھوٹی بات کہہ دی وہاں آپ کا غصے کا پارہ یوں چڑھتا تھا اور بالکل برداشت نہیں ہوتا تھا۔بعض لوگ بلکہ حیران ہوا کرتے تھے کہ دل کا حلیم ہو گا اور اتنا غصے کا اظہار۔دل کا حلیم تو تھا مگر جھوٹ کے خلاف الرجی ضرور تھی۔وہ برداشت نہیں ہوسکتا تھا اور اکثر صورتوں میں میں نے یہی دیکھا ہے کہ جہاں جھوٹ کا پہلو آیا وہاں آپ کا غصہ بڑھتا تھا جہاں جھوٹ نہ ہو وہاں بڑے سے بڑا مجرم اگر صاف بات کر رہا ہو آپ غصے کا اظہار نہیں کیا کرتے تھے اور دل کا حلیم ہونا بھی سچا تھا کیونکہ غصے کے اظہار کے بعد پھر دل میں اس شخص کے لئے ہمدردی بھی پیدا ہوتی تھی اس کی دلداری بھی فرماتے تھے کئی رنگ میں اس سے احسان کا معاملہ بھی کیا کرتے تھے۔آپ بھی جھوٹ کی الرجی کی دعا مانگیں تا کہ معاشرے کو پاک کریں جھوٹ سے، برداشت نہ کریں اس چیز کو اور برداشت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مارنا شروع کر دیں، خود تکلیف محسوس کریں اور پھر جس طرح بھی چاہیں ، جس طرح بھی ہو سکتا ہو سمجھا کر محبت سے پیار سے بعض جگہ ناراضگی کے اظہار سے بھی دعائیں کر کے جھوٹ کی بیخ کنی کی کوشش کریں۔یہ جہاد گھروں میں شروع ہوگا کیونکہ ہر گھر والا جانتا ہے کہ میرے گھر میں جھوٹ پرورش پا رہا ہے۔بیوی جھوٹ بولتی ہو وہ خاوند سے چھپ نہیں سکتی ، ماں جھوٹ بولتی ہے تو وہ بچوں سے چھپ نہیں سکتی ، باپ جھوٹ بولتا ہے تو وہ نہ بیوی سے چھپ سکتا ہے نہ بچوں سے چھپ سکتا ہے۔اس لئے گھروں کو اصلاح کا یونٹ بننا چاہئے اور ہر احمدی جس تک یہ آواز پہنچے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو یا بچے ہوں ان کو جھوٹ کے خلاف ایک جہاد کا علم بلند کر دینا چاہئے۔بچے بھی اس ضمن میں ہمارے بہت