خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 352
خطبات طاہر جلد ۶ 352 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء کہ ہم نیک ہوں اور ہماری حالت سدھر جائے۔تو ایسے سب لوگ آپ کی دعاؤں سے فیض پائیں گے اور بڑی کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ جماعت احمدیہ کی دعائیں عالم اسلام کے حق میں قبول ہوں گی مختلف رنگ میں قبول ہوں گی۔اس لئے دعا کی طرف جب میں توجہ دلاتا ہوں تو یہ سارے پہلو کھولنا چاہتا ہوں کہ کیا مراد ہے۔بد سے بدقوم کے لئے بھی ، بد سے بد انسان کے لئے بھی دعا کرنا ہمارا فرض ہے اور اس دعا کے لئے ہمدردی ہونا ضروری ہے۔یہ ایک دوسرا پہلو ہے جس کو ہمیشہ دعا کرنے والے کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔منہ سے نکلی ہوئی ایسی دعا جو حلق سے نیچے سے نہ اٹھ رہی ہو۔ایسی دعا ایک Mechanical Process ہے۔ایک قسم کا ایسا عمل ہے جس کے اندر جان نہیں ہے،اس میں کوئی روح نہیں ہے۔ہر دعا جو مقبول ہوتی ہے اس کے اندر روح ہونا ضروری ہے اور روح کے لئے نیک اعمال کا ہونا بھی ضروری ہے۔اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ دعا کریں تو پہلی بات تو یہ ہے کہ روح کے ساتھ دعا کریں اور پھر اپنا جائزہ لے کر یہ بھی دیکھیں کہ اگر آپ کی دعائیں مقبول نہیں ہوتیں تو کون سی بدیاں ایسی ہیں جن پر آپ کو اصرار ہے، کون سی ایسی نیکیاں ہیں جن سے آپ کو محرومی حاصل ہے۔اس طرف آپ توجہ کریں گے تو وہ لوگ جو شکوے کرتے رہتے ہیں کہ ہماری دعا مقبول نہیں ہوئی ان کو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک ایسی دولت ہاتھ آجائے گی جس کے نتیجے میں ایک ایسا عظیم الشان گرمل جائے گا، جس کے نتیجے میں دن بدن ان کی دعائیں پہلے سے بڑھ کر مقبول ہونے لگ جائیں گی۔مگر آج کے دن اس وقت تو یہ وقت نہیں ہے کہ آپ فوری طور پر اپنی اصلاح کر لیں اپنی نیکیاں بڑھالیں اپنی بدیوں کو دور کر دیں اس لئے آج کیا کریں؟ یہ سوال ہے اس کا جواب میں یہ دیتا ہوں کہ ایک چیز ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔اپنے لئے دعا کرتے ہوئے خدا کے حضور یہ نذر پیش کر دیں کہ میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں میں اتنی بدیاں ضرور دور کر دوں گا اور یہ یہ نیکی حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔پھر خدا تعالیٰ اس عہد کے بعد آپ کے ساتھ یقیناً غیر معمولی رحمت اور شفقت کا سلوک فرمائے گا اور وہ نیکیاں جو ابھی آپ نے کیں نہیں ان کی ابھی سے جزا دینی شروع کر دے گا کیونکہ خدا کے ہاں جو بندے کے تعلق کے معاملات ہیں وہ عام دنیا