خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 350

خطبات طاہر جلد ۶ 350 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء کرنے کی خدا نے حتمی آنحضرت ﷺ کو خبر دی ہے۔وہ دعائیں جن کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ میں ضرور قبول کروں گا ان میں ایک مظلوم کی دعا ہے اور وہ دعائیں جو نا مقبول ہوں ان کے متعلق بھی خبر ہے بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملے جیسے مستجاب الدعوات کے متعلق بھی فرمایا کہ بعض ظالم ایسے ہیں جن کے متعلق میں تمہاری دعا بھی قبول نہیں کروں گا۔آخر کیوں یہ آیت قرآن کریم میں نازل فرمائی گئی ؟ یہ ہم جیسے انسانوں کے لئے ایک نصیحت اور سبق تھا کہ بعض مظالم سے اگر تم نہیں روکو گے اپنے ساتھیوں کو، وقت پر نہی عن المنکر کا کام نہیں شروع کرو گے تو ایسے حالات ہو سکتے ہیں کہ پھر کسی کی دعا بھی اس موقع پر کام نہیں آئے گی۔تو تو میں جب مظالم میں حد سے زیادہ آگے بڑھ جاتی ہیں تو خدا کا غضب مقدر ہو جاتا ہے پھر نیک سے نیک آدمی کی دعا بھی مقبول نہیں ہو سکتی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کتنی گریہ وزاری کی تھی کیسی التجائیں کی تھیں بلکہ قرآن کریم نے فرمایا کہ جھگڑا شروع کر دیا، بحث کی کہ نہیں اس قوم کو ابھی کچھ اور مہلت ملنی چاہئے اس کو معاف کر دے لیکن خدا تعالیٰ نے ابراہیم کے ساتھ بے انتہا پیار کے باوجود جو بحث کی گئی مجرموں کی خاطر اس کو محفوظ بھی کیا، حضرت ابراہیم سے ناراض نہیں ہوا لیکن بات نہیں مانی۔حضرت لوط کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا اور کتنے ہی انبیاء ہیں جن کی دعائیں ظالموں کے حق میں نا مقبول ہو گئیں۔تو جماعت احمد یہ تقویٰ کے کسی بھی مقام پر ہو جو خدا تعالیٰ کی ازلی تقدیریں ہیں ان کو نہیں بدل سکتی۔اس کو بدلنے کے لئے بعض وقت ہوتے ہیں اور بہت ساری صورتوں میں وہ وقت گزر چکے ہیں ہمارے ہاتھ میں نہیں رہے، پانی سر سے گزر چکا ہے۔تو اتنے خطرناک مہیب حالات ہیں اگر ان کی جس ہی نہ ہو، اگر توجہ ہی نہ ہو ان کی طرف ، انسان اس غم میں نہ گھلے تو دعا مقبول ہو یا نا مقبول دعا کی طرف توجہ بھی پیدا نہیں ہوگی لیکن ایک بات جس کی طرف میں آپ کو آج خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ دعائیں نا مقبول ہو جائیں گی اور کسی قوم کے حق میں بظاہر حالات ایسے ہیں کہ اب نہیں سنی جائیں گی تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ دعائیں کی نہ جائیں۔اللہ نے بار بار آنحضرت ﷺ کو یہ خبر دی کہ میں نہیں سنوں گا تمہاری یہ دعا، بعض ظالموں کے حق میں میں نہیں قبول کروں گاستر دفعہ بھی استغفار کرو گے تو میں نہیں قبول کروں گا۔