خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 336

خطبات طاہر جلد ۶ 336 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء اس کے علاوہ بعض اور قسم کی خصوصی برکتیں بھی ہیں جن میں سے ایک بہت ہی اہم دعا کی برکت بھی ہے۔یہ تو ایسی چیز نہیں جو کوئی لے جانے والا اپنے ساتھ لے جائے کیونکہ مذہب میں Monoply کا کوئی مضمون آپ کو دکھائی نہیں دیتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں مقبول ہوتی تھیں تو آپ نے کوئی راز نہیں رکھا اور خدا نے کوئی راز نہیں رکھا کہ یہ دعائیں کیوں مقبول ہوتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے وہ سارے نسخے سب کے لئے روشن کر دیئے جو دنیا دارPatent کروا لیا کرتے ہیں اور بعض چھوٹے درجہ کے بزرگ اُن کو خاص نسخوں کے طور پر سینہ بہ سینہ محفوظ کر کے آگے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہمارے خاص مریدوں کو یہ راز بتانا کہ فلاں وظیفہ یوں کیا جائے اور فلاں وظیفہ یوں کیا جائے لیکن وہ رحمۃ للعالمین بن کے آیا تھا اُس نے دنیا سے کوئی بات راز میں نہیں رکھی۔سارے عالم پر سب نسخے ظاہر کر دیئے۔قرآن کریم نے بھی ظاہر کئے اور آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ نے بھی ظاہر کر دیئے اس لئے وہ برکتیں نہ صرف عام ہو ئیں بلکہ لافانی بن گئیں۔لافانی بن جانا چاہئے تھا۔لیکن اس کے باجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں آنحضرت ﷺ کی ہی دعا ئیں تھیں دوسرے اس تک نہیں پہنچ سکے نہ آئندہ پہنچ سکتے ہیں۔علم صرف کافی نہیں، اُس علم سے استفادہ ایک الگ مضمون ہے۔بعضوں کو ایک حد تک استفادہ کی توفیق ملتی ہے، بعضوں کو اس سے آگے بڑھنے کی توفیق مل جاتی ہے۔تو کیسے ممکن ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کے بعد اچانک آپ کی دعاؤں کا فقدان ان معنوں میں محسوس نہ ہوا ہو کہ ہر ضرورت مند جس وقت ضرورت پیش آتی ہے پہنچ جاتا ہے کہ جی اس بات کی دعا کر دیں، اس بات کی دعا کر دیں۔اس بات کی دعا کر دیں۔نماز کے وقت پہنچ رہے ہیں کبھی نماز کے بعد اٹھ کر یہ عرض کر دیا یا رسول اللہ ! اس چیز کی ضرورت پیش آگئی ہے دعا کر دیں، وہیں ہاتھ اٹھائے دعا کر دی اور بعض دفعہ ایسے حیرت انگیز طور پر وہ دعا قبول ہوتی تھی کہ دیکھنے والے حیران رہ جایا کرتے تھے۔بارش نہیں ہو رہی، خشک سالی ہے ایک زمیندار بیچارے کی چھوٹی سی کھیتی خراب ہو رہی ہے، وہ پہنچتا ہے یا رسول اللہ دعا کریں بہت بُرا حال ہو گیا ہے، جانور پیا سے مر رہے ہیں، کھیتیاں برباد ہو رہی ہیں۔آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو دعاختم نہیں ہوئی تھی کہ وہ آسمان جس پر بادلوں کا نشان تک نہیں تھا گھنگھور گھٹاؤں سے بھر گیا اور اتنی بارش برسی اتنی بارش برسی کہ وادیاں جل تھل