خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 332

خطبات طاہر جلد ۶ 332 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۸۷ء بن ثابت کی زبان میں بیان کر دیا کہ اے جدا ہونے والے میرے محمد ، میرے پیارے! تو نور تھا جس سے میں دیکھا کرتا تھا۔تو میری آنکھوں کی پتلی تھا۔آج تو جدا ہوا ہے تو میں آنکھوں کے نور سے محروم ہو گیا، مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔من شاء بعد ک فلیمت اب جو چاہے تیرے سوا مرتا پھرے فعلیک کنت احاذر مجھے تو صرف تیرا غم تھا کہ تو نہ ہاتھ سے جاتا رہے۔وہ صحابہ بھی برکتوں کے مضمون کو سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برکتوں کو اپنے تک محدود رکھنے کے لئے نہیں آئے تھے۔بلکہ کل عالم میں پھیلانے کے لئے آئے تھے۔ایسا نور لائے تھے جو مشرق اور مغرب میں چمکنے والا تھا جو بادشاہوں کے محلوں اور فقیروں کی کٹیاؤں میں چمکنے والا تھا، جو کوئی تفریق نہیں کرنے والا تھا۔اس کے باوجود جہاں تک ذاتی شان کا تعلق ہے اس کے جدا ہونے سے لازماً اندھیرا دکھائی دینا چاہئے تھا کیونکہ مقابل پر جونور تھے ان کی حیثیت آزادانہ طور پر اتنی نہیں تھی کہ ایک جانے والے نور کی کمی کو کوئی ایک دم پورا کر سکیں۔ستارے سورج کے غروب کے وقت فورا تو روشنی نہیں دکھایا کرتے۔ایک لمبا عرصہ Dusk کا، بے چینی کا، ایک جھٹپٹے کا وقت ہے جو کچھ دیر باقی رہتا ہے اور طبیعتوں میں اداسی پیدا کر دیتا ہے۔شام کی اداسی کا فلسفہ دراصل یہی ہے روشنی غائب ہو چکی ہوتی ہے سورج جا چکا ہوتا ہے اور ستارے ابھی اپنی روشنی دینا شروع نہیں کرتے اس لئے کہ گئے ہوئے سورج کی روشنی میں بھی وہ ماند دکھائی دیتے ہیں وہ روشنی ابھی باقی رہتی ہے، اس کی یاد باقی رہتی ہے۔اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے بعد آپ کی روشنی جو کائنات میں ہر جگہ شفق کی صورت میں دکھائی دے رہی تھی، اس نے سورج کی جدائی کا احساس کو نمایاں کر دیا لیکن ستاروں کو ابھی یہ توفیق نہیں بخشی تھی کہ وہ فوراً مطلع پر ابھر کے اپنے آپ کو دکھانا شروع کریں اور اپنی روشنی کو پھیلا نا شروع کر دیں۔اس لئے یہ جوڑ کا زمانہ بڑے گہرے غم اور فکر کا زمانہ تھا اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کا محسوس ہونا ایک طبعی امر تھا۔اسی طرح ہر بزرگ کی جدائی درجہ بدرجہ محسوس تو ہوتی ہے اور خلاء بھی پیدا ہوتے ہیں۔پس اگر یہ برکت ہے تو پھر میرے گزشتہ بیان میں یہ ترمیم ہونی چاہئے کہ بعض نوع کی برکتیں ضرور ایسی ہوتی ہیں جو وقتی طور پر ہاتھ سے جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور ایک شدت کے