خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد ۶ 330 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۷ء جب نظر سے غائب ہوتی ہے تو اس کی برکتیں بھی نظر سے غائب ہو جاتی ہیں بلکہ ایسی سرزمین کا نقشہ دنیا کے سامنے پیش کریں جو برکتیں محفوظ کرنے والی سرز مین ہو۔ جس کے اندر برکتیں برسیں تو مدتوں تک ان برکتوں کی یاد باقی رہے اور اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور برکتوں والے وجود پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ ہر پہلو سے نمایاں ہونے والی شخصیت اور ابھارتا رہتا ہے۔ پس فی الحقیقت جو خلا کا احساس ہے وہ اپنی جگہ ایک الگ ایک Independant ، ایک آزاد حقیقت ہے۔ لیکن خلا کے مضمون کو سمجھنے کے بعد ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ جتنا بڑا خلا پیدا ہوتا ہے اس خلا میں ہماری کمزوریوں کا بھی بہت بڑا دخل ہے۔ اگر ہم برکتوں سے محبت کرنے والے ہوں اور حقیقتاً ان کی اہمیت کو سمجھنے والے ہوں تو ان برکتوں کو ہمیں اپنی ذات میں جاری کرنا چاہئے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات کو ایک ایسے نور کے طور پر قرآن کریم نے پیش فرمایا۔ جو خدا کے نور کی مثال ہے اور وہ نور ایک حیرت انگیز استثنائی شان رکھتا ہے۔ اپنی پاکیزگی میں ، اپنی کی کوئی دوسری مثال دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن وہ آیت ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ نو بڑھتا اور پھیلتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور وہ آیت اس مضمون پر ختم ہوتی ہے کہ پھر اسی نور کو تم مومنوں کے سینوں میں مختلف گھروں میں بھی روشن پاؤ گے۔ صلى الله قرآن کریم کی آیات میں سے ایک عظیم الشان آیت ہے جو اپنے نو ر اور اپنی چمک میں ایک بے مثل آیت دکھائی دیتی ہے۔ حیرت انگیز ایک فلم تیار کی گئی ہے ایک چھوٹے سے جملے کے اندر۔ اس میں خدا کے نور کی مثال دنیا پہ ظاہر ہوتی دکھائی گئی اس نور کی چمک دمک، اس کی غیر معمولی شان بیان فرمائی گئی اس کا لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَربِيَّة (النور: ۳۶) ہونا بتایا گیا کہ وہ کسی قسم کے تعصبات یا نسلی رجحانات رکھنے والا نور نہیں ہے۔ مشرق کے لئے بھی ہے اور مغرب کے لئے بھی ہے۔ جس طرح خدا کی ذات سب کے لئے مشترک ہے اسی طرح محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور جو خدا کے نور سے رنگ پکڑ کر پیدا ہوا ہے وہ بھی عالمی نوعیت کا نور ہے ۔ اور پھر فرمایا بظاہر اکیلا نور ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے، توحید سے مضمون شروع ہوا ہے، خدا کے نور سے بات چلی ہے اور غیر محسوس طور پر معاوہ بات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے اظہار میں داخل ہو جاتی ہے اور پھر وہاں نہیں ٹھہرتی بلکہ آگے مضمون کو پھیلاتے ہوئے بتاتی ہے کہ یہ نور پھیلنے والا نور