خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 29
خطبات طاہر جلد ۶ 29 29 خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۷ء طرف جارہا ہے یا حق کی طرف جارہا ہے یا اندھیرے کی طرف جارہا ہے یا روشنی کی طرف جارہا ہے، تیسری کوئی حالت نہیں ہے اور آپ جس کو آرام کہتے ہیں یعنی تھکاوٹ دور کرنا ، اس کا بھی اس سے تعلق ہے۔جس کا دن نیکیوں میں گزرے اس کا آرام بھی نیکیوں میں ہوتا ہے ، جس کا دن بدیوں میں گزرے اس کا آرام بھی بدیوں میں ہوتا ہے اور اس فلسفے کو خدا تعالیٰ نے نہایت ہی عظیم الشان طریق پر حضرت رسول اکرم ﷺ کی سنت کے مضمون کے تعلق میں ہمیں پھر سمجھایا:۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبَّكَ فَارْغَبْ (الم نشرح: ۸-۹) تھکا ہوا آدمی لذت چاہتا ہے اس سے خدا تعالیٰ انکار ہی نہیں کرتا۔لذت کو وقت کا ضیاع نہیں فر ما تا مگر یہ فرماتا ہے لذت باطل کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور حق کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے۔جس کے وقت کا لمحہ لحہ بے انتہا قیمتی تھا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ۔آپ کی لذت خدا تعالیٰ کی ذات میں تھی۔اس لئے جب آپ فارغ ہوتے تھے تو تب بھی آپ کی لذت خدا تعالیٰ کی یاد میں ہوتی تھی۔کام بھی خدا اور آرام بھی خدا۔یہ توحید کامل پیدا ہو جاتی ہے موحد کامل میں۔صلى الله اس پہلو سے اگر آپ وقت کا حساب لگائیں تو ایک اور بڑی دلچسب بات سامنے آتی ہے حضرت رسول اکرم ﷺ اور اپنے درمیان فاصلہ جانچنے کا ایک بہت ہی عمدہ پیمانہ خدا نے ہمیں پکڑا دیا۔ہم اپنے آرام کے تصور اور تھکنے کے بعد ہم کیا چاہتے ہیں ، اس تصور کا آنحضرت ﷺ کے آرام کے تصور اور تھکنے کے بعد آپ کیا چاہتے تھے ، اس کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ یہ فاصلے کتنے زیادہ ہیں۔اتنا فاصلہ ہے ایک عام انسان میں خواہ وہ متقی بھی ہو اور حضرت رسول اکرم ﷺ کے اعلیٰ اور ارفع مقام میں کہ اس پیمانے سے جب آپ اپنے آپ دیکھیں تو ہر متقی اپنے آپ کو گناہ گار سمجھنے لگ جائے گا۔اس کے بے شمار آرام کے مواقع جو وہ تلاش کرتا ہے یا حاصل کرتا ہے ان پر جب وہ نظر ڈالتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اِلى رَبِّكَ فَارْغَبُ کے پیمانے پر وہ پورے نہیں اترتے۔کچھ نہ کچھ رب سے ہٹ کر ان کا مقام ہے اگر چہ بڑا فرق ہے اس میں بھی جو غیر متقی ہے وہ خالصۂ باطل میں جا کر اپنی آرام طلبی کا اظہار کرتا ہے، اپنی لذت یا بی کو کلیۂ باطل میں ڈھونڈتا ہے۔مومنوں میں سے ایک بڑا حصہ ہے جو No Man's Land میں رہتا ہے، نہ باطل میں نہ