خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 323

خطبات طاہر جلد ۶ 323 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء جاتا ہے اس کے نتیجے میں جماعت کو کوئی دائی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ہر آنے والا اپنی خاص برکتیں چھوڑ کر جایا کرے گا اور ہمیشہ کے لئے وہ برکتیں جماعت کی امانت بنتی چلی جائیں گی اور جماعت ہمیشہ پہلے حال کی نسبت بہتر حال میں منتقل ہوتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے دور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چھوڑی ہوئی برکتیں ختم تو نہیں ہو گئیں تھیں۔جاری رہیں بلکہ نشو ونما پاتی رہیں اور حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی اپنی شخصیت کی جو خصوصی برکتیں تھیں وہ بھی جمع ہوئیں بیچ میں اور حضرت خلیفہ مسیح الا قال کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے دور میں بھی یہی ہوا۔چنانچہ ایک موقع پر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت احمدیہ پر ایک عرب شاعر کا شعر صادق آتا ہے:۔اذا سيد منا خلا قام سید قئول بما قال الكرام فعول کہ جب کوئی بزرگ سردار ہم میں سے گزرتا ہے تو اپنی بزرگیاں نہیں لے جایا کرتا ساتھ اپنی سیادتوں سے محروم نہیں کر جایا کرتا قوم کو قام سید ایک اور سید ایک اور سردار اس کی جگہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے قئول بما قال الکرام صاحب کرام لوگ، جیسا کہ الہام میں ذکر ہے، صاحب کرام لوگوں کی باتوں کو، صاحب کرامت لوگوں کی باتوں کو وہ اسی طرح کہتا ہے جس طرح پہلے کرام لوگ کہا کرتے تھے اور فعول ان باتوں پر اُسی طرح عمل کر کے دکھاتا ہے جس طرح اس سے پہلے کرام لوگ ان باتوں پر نیک عمل کر کے دکھایا کرتے تھے۔تو یہ ہے برکت کی حقیقت اور یہ مضمون خوب اچھی طرح جماعت کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے اگر وہ برکتوں سے چمٹنے کی عادت ڈالے اور ایک صاحب برکت وجود کے بعد اس وجود کی جدائی کا غم تو کرے لیکن برکتوں پر نوحہ نہ کرے تو یہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے زندگی کی ہر علامت میں ترقی کرتی چلی جائے گی اور ہر لحاظ سے اس کی برکتیں نشو ونما پاتی رہیں گی اور بڑھتی رہیں گی ہر آنے والا وجود ضرور نئی برکتیں لے کر آئے گا اور ہر جانے والا وجود نئی برکتیں پیچھے چھوڑ جایا کرے گا اور جماعت کو برکتوں کے لحاظ سے کبھی نوحہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔پس سیدہ حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی جدائی اگر چہ بہت ہی شاق ہے اور جذباتی لحاظ سے ایک بڑی آزمائش ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ ایک صاحب برکت وجود تھا جو چلا گیا اب ہم یہ