خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 320
خطبات طاہر جلد ۶ 320 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء ایسی نہیں جو آنحضرت ﷺ کی برکت کے علاوہ ہو۔چنانچہ آپ کو الہاما بتایا گیا كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّد الله ( تذکره صفحه ۳۵) کہ ساری برکتیں آنحضرت ﷺ کی برکتیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا اقرار فرمایا مختلف رنگ میں۔ایک جگہ فرماتے ہیں:۔ایں چشمہ رواں کہ خلق خدا دہم یک قطره ز بحر کمال محمد است در مشین فارسی صفحه ۸۹) تو اگر برکتیں جو وجود اپنے ساتھ ہی لے جائے تو ایسا وجود تو بہت ہی برکتوں کے معاملے میں کنجوس ہو گا۔وقتی طور پر برکتیں دے کر ساتھ لے جانے والا وجود حقیقی طور پر نافع الناس نہیں کہلا سکتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی برکتیں تا قیامت جاری ہیں اور بعد میں جو اچانک وصال کے بعد جو خلا محسوس ہوا تھا اس کی اور کئی وجوہات ہیں۔ایک تو یہ کہ محبت کے نتیجے میں محبوب کی جدائی سے ایک خلا محسوس ہوا کرتا ہے اور اس کا برکت سے کوئی تعلق نہیں۔محبوب چلا جائے تو رونق اٹھ جایا کرتی ہے۔محبوب چلا جائے تو وہی مناظر جو پہلے خوش دکھائی دیتے تھے وہ بد دکھائی دینے لگتے ہیں۔اس لئے ایک تو بہت بڑی وجہ حضرت اقدس محمد مصطفی حلوہے کے وصال کے بعد کا بحران آپ کے ایک محبوب کی جدائی کا بحران تھا۔دوسرے برکت کے علاوہ کچھ اور بھی مضامین ہیں جو مذہبی امور سے تعلق رکھتے ہیں اگر برکت کے دائرے میں ان کو شمار کر لیں تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ بعض برکتیں ضرور ساتھ چلی جاتی ہیں۔وہ مضامین ہیں صاحب برکت کے ذاتی اثر کے نتیجے میں اس کے برکتوں سے استفادہ کرنے کی طاقت۔اس مضمون کا مطالعہ کرنے سے یہ سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔بعض لوگ برکتیں لے کر آتے ہیں اور ان میں خدا تعالیٰ یہ طاقت بھی بخشتا ہے کہ وہ ان برکتوں کو جاری کریں اور ان برکتوں سے استفادہ کرنے والوں کی طاقت بڑھا ئیں اس معاملے میں۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی میں یہ کی زندگی میں وہی صحابہ جو بعد میں بعض پہلوؤں سے کمزور دکھائی دینے لگے آنحضرت ﷺ کی صحبت اور برکت سے غیر معمولی استفادہ کیا کرتے تھے۔وہ استفادہ کی طاقت اگر کسی میں موجود ہو، خواہ وہ سینکڑوں سال کے بعد بھی پیدا ہو وہ لوگ جو زندہ برکتیں رکھتے ہیں وہ پھر بھی ان برکتوں کا فیض ان تک پہنچا سکتے ہیں اور حاصل کرنے والے حاصل کر سکتے ہیں۔