خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد ۶ 319 خطبه جمعه ۸ رمئی ۱۹۸۷ء بیٹے ، ان کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ کے ابتدائی خلافت کے دور میں ہوئی اور نکاح آپ کا گیارہ سال کی عمر میں پڑھا دیا گیا تھا لیکن رخصتانہ تیرہ سال کی عمر میں ہوا۔آپ کے تین بیٹے جو بقید حیات ہیں اور چھ بیٹیاں تھیں اور چھ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کے لحاظ سے فضل فرمایا اور بہت ہی اچھی کامیاب نیکیوں اور خوشیوں سے معمور لمبی زندگی عطا فرمائی۔آپ کی عمر وصال کے وقت تراسی (83) سال اور کچھ مہینے بنتی ہے، کم و بیش تر اسی سال بنتی ہے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بعض وجودوں کے ساتھ بعض برکتیں ہوتی ہیں جو ان وجودوں کے ساتھ چلی جاتی ہیں اور اس خیال سے طبیعتوں میں فکر پیدا ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض وجودوں کے ساتھ بعض برکتیں ایسی ہوتی ہیں جو ان کے جانے کے بعد اس طرح دکھائی نہیں دیتیں اور ان کا خلاء محسوس ہوتا ہے لیکن یہ کہہ دینا کہ ہر وجود گویا کہ اپنی ساری برکتیں ساتھ لے کر چلا جاتا ہے یہ بالکل غلط خیال ہے۔سب سے زیادہ برکتوں والا وجود حضرت اقدس محمد مصطفی ملی تھے۔آپ جو برکتیں لے کر آئے آپ کے وصال کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے ان برکتوں کا ایک بہت سا حصہ جدا ہو گیا ہے ساتھ ہی اور ایک شدید بحران کی سی کیفیت پیدا ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک صدیق کو کھڑا کر کے ایک بہت حد تک اس بحران سے جماعت کو نکال لیا۔لیکن تمام مؤرخین جانتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی زندگی میں جو مسلمانوں کی حالت تھی ، جو اسلام کی حالت تھی وصال کے بعد ایک نمایاں فرق نظر آتا ہے اور زندگی کے بعد کے حالات کو یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا اس سے اور اسی قسم کی دوسری مثالوں سے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ صاحب برکت وجود جب جاتے ہیں تو گویا اپنی برکتیں ساتھ لے جاتے ہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ صاحب برکت وجود اپنی برکتیں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں لیکن ان برکتوں سے استفادہ کرنے والوں کی کیفیت میں کمی آجاتی ہے اور وہ برکتیں اپنی ذات میں زندہ رہتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کی برکتوں کو کون کہہ سکتا ہے کہ ختم ہوئیں۔اس دور تک وہ جاری ہیں اور قیامت تک جاری رہیں گی۔بیچ کے دور میں اگر اس سے استفادہ ختم ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی روحانی اولاد کے طور پر کھڑ افرمایا اور وہ ساری برکتیں حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی کی تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات میں دوبارہ جاری دکھائی گئیں۔ایک برکت بھی