خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد ۶ 28 خطبه جمعه ۹ جنوری ۱۹۸۷ء صلى الله ليلة القدر ہزار مہینوں سے بڑھ کے بڑھ کر ہے اور لیلۃ القدر سے آ سے ایک مراد آنحضور ﷺ کی راتیں و راوسه صلى الله ہیں۔ جن کی قدر تھی ۔ آپ جن کی قدر کرتے تھے راتوں کی اور ان کو صحیح مصرف کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جن راتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ایک رات بظاہر اتنے وقت میں گزری ہے جتنے وقت میں زمانے کی اس جگہ کے بسنے والوں کی رات تھی۔ تو فرمایا ایک اور تمہیں ہزار صلى الله عروسه کی نسبت اس رات میں اور اس رات میں ہے۔ ایک ایک لمحہ استعمال فرما رہے ہیں آنحضرت اس لئے آپ کی راتوں کی قدر خدا کے نزدیک بڑھ گئی۔ اس پہلو سے میں نے غور کیا تو بہت سے اور مضامین بھی خدا تعالیٰ نے سمجھائے اور حیرت انگیز طور پر عمر دنیا سے اس مضمون کا تعلق دکھائی دیا۔ بہر حال ہم جس کے غلام ہیں اس کا پیمانہ ہمیں بتا دیا گیا، اس کے وقت کا پیمانہ اور ہمیں متوجہ کیا گیا کہ تم بھی اپنے وقت کو بھرنے کی کوشش کرو۔ جتنے لمحے تمہارے بھر پور ہوتے چلے جائیں گے، اتنا تیز رفتاری سے تمہارا وقت گزرے گا اور تمہارے غیروں کے مقابل پر تمہارے وقت کی قیمت خدا کے نزدیک اس پیمانے کے مطابق جانچی جانی چاہئے۔ محمد مصطفی ﷺ کا وقت اگر صلى الله علوس دوسرے کے وقت سے ایک اور تمیں ہزار کی نسبت رکھتا تھا تو آپ کے غلاموں کا وقت بھی دوسرے انبیاء کے غلاموں سے مقابلہ اتنا ہی زیادہ کارآمد اور مصروف ہونا چاہئے ۔ حرکت کے لحاظ سے کے لحاظ سے۔ اظ سے معنوں پس جب ہم اپنے وقت کو پہچانتے ہی نہیں، ہمیں پتا ہی نہیں ہے کہ وقت گزر بھی رہا ہے کہ نہیں تو ہم کس طرح خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دیں گے کہ اے خدا! تو نے تو باطل نہیں پیدا کیا تھا مگر ہم نے باطل کر کے دکھا دیا۔ اس لئے وقت خود اپنی ذات میں ایک جواب طلبی کا ذریعہ ہے ۔ یہ کہنا کہ جی میرا وقت ہے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میں جس طرح گزار دوں ۔ یہ غلط بات ہے اس کو دماغ سے نکال دیں۔ آپ کا وقت نہیں ہے خدا کا وقت ہے اور وہ وقت کا بھی مالک ہے اور ان معنوں میں آپ کا وقت ہے کہ آپ کو مانتا دیا گیا ہے۔ اس وقت کے متعلق جواب طلبی ہو گی اور یہ جواب آپ کو و دینا پڑے گا کہ ہم نے اس وقت کی حرکت کو باطل میں تبدیل کیا تھا یا حق میں تبدیل کیا تھا۔ یہ مضمون اگر آپ ذہن میں رکھیں تو وہ وقت جو ہم ضائع نہیں کرتے جو گزر رہا ہے کسی حرکت میں، اس پر نظر ڈالیں تو وہ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوتا نظر آتا ہے ۔ وقت یا باطل کی