خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد ۶ 27 خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۷ء ہیں۔جتنا ہم تیز رفتاری کے ساتھ اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں یا زمانے کو بدل رہے ہیں یا زمانے پر اثر انداز ہورہے ہیں، اتنی تیز رفتاری سے ہمارا وقت گھوم رہا ہے۔اس پہلو سے اگر آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ہم میں سے ایک بڑی بھاری تعداد ایسی ہے جو وقت کا ایک بہت بڑا حصہ ان معنوں میں ضائع کر دیتی ہیں کہ وقت بنتا ہی نہیں وہ۔قرآن کریم نے جو وقت کا نقشہ کھینچا ہے وہ آگے بڑھنے والا وقت ہے جو کوٹ کوٹ کر تبدیلیوں سے بھرا ہوا ہے۔ایک لمحے کا کروڑواں در کروڑواں در کروڑواں حصہ بھی ایسا نہیں جس میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل کی تبدیلیاں نہیں ہو رہیں۔اس لئے کچھ تبدیلیاں تو ہمارے اندر ہوں گی بہر حال کیونکہ قدرت نے ہمیں مجبور کیا ہوا ہے۔جس وقت کے ہم جوابدہ ہیں فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کا مطلب یہ ہے اس دعا کا کہ ہم اپنے وقت کے جوابدہ ہیں، ہمیں یہ سمجھ آگئی ہے۔جس وقت کے ہم جوابدہ ہیں وہ وہ وقت ہے جس کا ہماری ذات کی تبدیلیوں سے تعلق ہے۔ہمارے اندر جو ہم تبدیلیاں خود کر رہے ہیں اپنے اندر یا اپنے ماحول اور گردو پیش میں جو تبدیلیاں کر رہے ہیں، ان کا نام وقت ہے۔اگر ہم فعال نہ رہیں تو ہمارا وقت اس حد تک ضائع ہو گیا یا وقت چلا ہی نہیں۔اس لئے بظاہر بعض لوگ ساٹھ سال ،ستر سال ،سو سال زندہ رہتے ہیں لیکن ان کا عملی وقت اگر آپ دیکھیں قرآن کریم کی تعریف کی رو سے تو اس میں سے بہت سارا حصہ خلا ہے، وقت ہے ہی نہیں۔عمر کو اگر اعمال کے پیمانے سے جانچا جائے تو بہت ہی تھوڑا وقت ملے گا جس میں انسان زندہ رہا ہے۔جو مادہ پرست قومیں ہیں ان میں نسبتاً زیادہ وقت کی قدر ہے لیکن رخ باطل کی طرف ہو گیا ہے اس لئے وہ اس پہلو سے جوابدہ ہوں گی لیکن میں اس وقت یہ بات نہیں کر رہا۔میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بہت سارے وقت کو وقت سمجھ رہے ہیں جو وقت نہیں ہے۔چنانچہ کسی نے خوب لکھا تھا کہ وقت گھڑی کی سوئی کی حرکت سے یا سیکنڈ کی ٹک ٹک سے نہیں بلکہ دل کی دھڑکن سے ناپا جاتا ہے۔جتنا زیادہ ہیجان پیدا ہوا ہے اسی قدر تیز رفتاری سے وقت گزرا ہے۔اس پہلو سے جب آپ غور کریں تو قرآن کریم کی آیت کا مضمون ایک اور شان سے سامنے آتا ہے اور وہ لیلۃ القدر سے متعلق ہے۔فرمایا: وَمَا أَدْرَيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍة (القدر:٤٠٣)