خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 302
خطبات طاہر جلد ۶ 302 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء اوقات قوم میں خرچ کی روح زندہ رکھنے کے لئے اعلانیہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے اور اعلانیہ ایک دوسرے سے آگے بھی نکلنا پڑتا ہے لیکن وہ لوگ جو سرا خرچ کرنے کے عادی ہوں اگر وہ اعلانیہ بھی کریں تو کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ ان کا مخفی طور پر خدا کی راہ میں خرچ کر دینا انہیں ثبات قدم بخش دیتا ہے ان کی نیکیوں کو قائم کر دیتا ہے اور ان کے لئے خطرہ کوئی نہیں رہتا لیکن جو علانیہ ہی کریں صرف ان کی حالت خطرے میں ہے کیونکہ ان کے عمل کے متعلق یقینی طور پہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ عشق الہی کے نتیجے میں تھا یا کسی اور وجہ سے۔ اس لئے قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا یہ کمال ہے کہ اس مضمون کو مسلسل قدم بہ قدم اور کھولتا چلا جاتا اور اندرونی روابط ایسے ہیں جو مضمون کے ایک حصے کو دوسرے سے ملاتے ہیں اور آپس میں کوئی تضاد نہیں ۔ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اور یہ لوگ حسنہ کے ذریعے برائی کو مٹاتے ہیں ۔ برائی سے دشمنی فی ذاتہ ان کے معاشرے کی اصلاح کا محرک نہیں بنتی بلکہ نیکی سے محبت یہ محرک بنتی ہے ۔ اب دیکھیں یہاں حسنہ کا پہلے ذکر فرما کے اس مضمون کو کس طرح مسلسل ایک نہ ٹوٹنے والے رابطے کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چونکہ محبت الہی ان کی ہر حرکت اور ہر سکون کے پیچھے کارفرما قوت ہے۔ اس لئے یہ جب معاشرے کی اصلاح کرتے ہیں تو نیکی کی محبت کی خاطر کرتے ہیں نہ کہ برائی کو مٹانے کا کوئی دعوی ہے کہ ہم برائیاں برداشت نہیں کر سکتے ہم ان کو مٹا کے چھوڑیں گے اور یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم نے جہاں جہاں بھی اس مضمون کو بیان فرمایا ہے وہاں حسنہ کو پہلے رکھا ہے اور سیئہ کو بعد میں رکھا ہے۔ الا ماشاء اللہ بعض اور مق مقاصد کو بیان کرنے کی خاطر ایک دو جگہ سیئہ کا ذکر پہلے آیا ہے لیکن وہ مضمون الگ ہے۔ تو بہر حال یہاں مراد یہ ہے کہ مومن کی زندگی مثبت چیزوں پر مبنی ہوتی ہے کیونکہ اس کی نیکی اللہ کی محبت کے نتیجے میں ہے۔ جس کی نیکی مثبت محرکات کی بناء پر قائم ہو اس کا ہر فعل، اس کی ہر حرکت اور اس کا ہر پروگرام اپنی ذات میں مثبت پہلو رکھتا ہے اور منفی پہلو نہیں رکھتا ۔ علاوہ ازیں اس کے میں بیان کر چکا ہوں کہ اگر سیئہ کو مٹانے کا دعویٰ لے کر صرف کوئی قوم اٹھے تو اس کے نتیجے میں تخریب کاری تو ہو سکتی ہے لیکن دنیا کا بہتر نقشہ نہیں بن سکتا ۔ اللہ تعالی نے حسنہ کو پہلے رکھ کے یہ بیان فرمایا کہ اگر تمہارے پاس کوئی مثبت چیزیں ہیں دنیا کو دینے کے لئے تو اس طرح برائیاں دور کرو کہ ہر برائی