خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 300

خطبات طاہر جلد ۶ 300 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء اس کے لئے دو ہی راستے ہیں یا تو محبت کے نتیجے میں ایسا کرے گا یا زور لگا کر اپنی دماغی قوتوں سے کام لے کر اپنے اوپر پابندی عائد کرے گا۔جو دماغی قوتوں سے کام لے کر پابندی عائد کرتا ہے نصیحت کو نصیحت سمجھ کر زبردستی اپنے اعمال میں تبدیلی چاہتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ چھوٹی سی چھوٹی بدی چھوڑنا بھی اور چھوٹی سی چھوٹی نیکی کو اختیار کرنا بھی کتنا مشکل کام ہو جاتا ہے۔پوری زندگی کو تبدیل کر دیناز بر دستی محض دماغی طاقت سے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن یہ کام آسان ہو جاتا ہے اگر عشق کے نتیجے میں ہو، اگر محبت اور پیار کی بناء پر ہو۔تو کتنا ہی مشکل مرحلہ ہو وہ آسانی سے طے ہو جاتا ہے کیونکہ عشق میں ایک دیوانگی پیدا ہوتی ہے اس دیوانگی کے نتیجے میں مشکلات آسان ہوتی چلی جاتی ہیں۔تو ایک طرف عشق ایک مشکل کو آسان کر رہا ہوتا ہے دوسری طرف عشق ہی کے نتیجے میں کچھ مشکلات پیدا ہو رہی ہوتی ہیں۔اندرونی مشکلات حل ہو رہی ہوتی ہیں اور بیرونی مشکلات بڑھ رہی ہوتی ہیں۔حقیقت میں عشق اگر اللہ کا ہو یا دنیا کا ہو ہر جگہ عشق کے ساتھ ایک صبر اور ایک مشکل کا مفہوم ایک فطری تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ ایک شاعر نے اس بارے میں کہا:۔الايايها الساقی ادر كأساً وَّ نَاوِلُهَا که عشق آسان نمود اول ولی افتاد مشکلها کہ اے ساقی ! پیالہ جام کو حرکت دو اور پیاسوں تک پہنچاؤ اس جام کو کیونکہ وہ عاشق جو تیری مجلس میں بیٹھے ہیں ان کو بظا ہر عشق دیکھنے میں آسان نظر آیا مگر ولے افتاد مشکلها مشکل ہے۔عشق شروع میں تو آسان دکھائی دیا تھا پڑ گیا ہے تو بہت ہی مشکل دکھائی دیتا ہے۔شراب کی طاقت کے بغیر گزارا نہیں ہے کہ اس مشکل کو انسان برداشت کر سکے۔شراب کے پیالے میں غم ڈبوئیں تو پھر ہم زندہ رہ سکتے ہیں اور نہ اور کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں بھی ایک پیالہ چلتا ہے اور وہ گردش میں آتا ہے مگر وہ خدا کی محبت ہی کا جام ہے، خدا کی محبت ہی کی ئے ہے جس میں اپنے آپ کو ڈبونا پڑتا ہے:۔نہاں ہو گئے ہم یار نہاں میں (در ثمین صفحه : ۵۰) یہ وہی مضمون ہے کہ جتنا زیادہ خدا کے عشق میں تکلیف پہنچتی ہے اتنا ہی خدا کے عشق