خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 296
خطبات طاہر جلد ۶ 296 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۷ء تقویٰ کی جو اعلیٰ تعریف میں نے جماعت کے سامنے رکھی تھی وہ بھی اس آیت میں مذکور ہے یعنی وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبھم کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کی خاطر صبر کرتے ہیں یہاں اگر چہ تقویٰ کا نام نہیں لیا گیا مگر تقویٰ کے نتیجے میں ہی وہ اعلیٰ درجہ کا صبر حاصل ہوتا ہے جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی بعض اور آیات میں اسی مضمون کو تقویٰ کا نام لے کر بھی بیان فرمایا گیا۔خدا کی رضا کی خاطر، اس کی محبت میں صبر کرتے ہیں یہ ہے اس آیت کے مضمون کا آغاز۔صبر کیا ہے؟ صبر کا مضمون اسلامی اصطلاح میں بہت وسیع ہے اس پر پہلے بھی میں بارہا روشنی ڈال چکا ہوں کہ اس میں صرف تکلیف کے نتیجے میں خاموشی اختیار کر لینا اور واویلہ نہ کرنا مراد نہیں۔آنحضرت ﷺ کی تعریف کے مطابق جو قرآن سے ماخوذ ہے۔صبر نیکیوں پر استقامت اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔جس اچھی چیز پر ایک دفعہ ہاتھ ڈال بیٹھیں اس کو نہیں چھوڑنا اور کسی قیمت پر بھی حاصل شدہ نیکیوں سے منہ نہیں موڑنا۔اس کا صبر سے کیا تعلق ہے؟ اچھی چیز جس کو انسان اختیار کر لے اسے آخر کیوں چھوڑے اور اس کے چھوڑنے کو بے صبری کیوں کہا گیا؟ اس کی دو وجوہات ہیں:۔اول تو یہ کہ نیکی بہر صورت اچھی ضرور ہوتی ہے لیکن نیکی کو قائم رکھنے کے لئے کچھ محنت بھی کرنی پڑتی ہے۔انسان کا سفر یا بلندی کی طرف ہوسکتا ہے یاڈھلوان کی طرف۔ڈھلوان کی طرف سفر کے لئے انسان کو کسی محنت کی ضرورت نہیں لیکن بلندی کے سفر کے لئے محنت کی ضرورت ہے اور جو بلندی بھی انسان حاصل کر لے اسے قائم رکھنے کے لئے بھی ایک محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اس لئے نیکیوں کے ساتھ صبر کے مضمون کو ہر جگہ قرآن کریم نے باندھا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جولوگ انفرادی طور پر کوئی اچھی عادت اختیار کرتے ہیں ان کو دنیا اس اچھی عادت سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کرتی۔دنیا ایک عام انسان کی انفرادی نیکی کے خلاف کوئی مخالفت کی مہم شروع نہیں کرتی لیکن جو نیکی اللہ کی خاطر اختیار کی جائے اس کی ایک نمایاں پہچان یہ ہے کہ اس نیکی کے مقابل پر دنیا اس کے پیچھے پڑ جاتی ہے نیکی اختیار کرنے والے کے اور پورا زور لگاتی ہے کہ کسی طرح وہ اس نیکی سے ہٹ جائے۔مثلاً یہ اعلان کے خدا ایک ہے، یہ ایک بہت ہی اچھا اور پیارا اعلان ہے اور کسی دوسرے کو تکلیف نہیں دیتا۔کم سے کم اس کی ذات میں کوئی ایسی بات نہیں جو کسی کو تکلیف دے