خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 26

خطبات طاہر جلد ۶ 26 26 خطبہ جمعہ ۹ / جنوری ۱۹۸۷ء کھانے کے باوجود بھی انگلی وہاں نہیں نکلے گی جہاں پہلے تھی۔ہر چکر کے ساتھ انگلی آگے بڑھتی چلی جائے گی لیکن چکر میں بڑھ رہی ہے اور سورج سمیت یہ نظام شمسی پھر گھوم رہا ہے اور نظام شمسی کا وقت اس طرح بنتا چلا جا رہا ہے ایک اور طریق پر اور یہ جو گلیکسی (Galaxy) جس کا ہم حصہ ہیں یہ گلیکسی اپنے گرد بھی گھوم رہی ہے اور اس کے علاوہ ایک اور گردش کر رہی ہے اور یہ ساری کائنات جس میں ان گنت گلیکسیز ہیں یہ خود ساری کائنات بھی حرکت میں ہے اور ہر چیز ایک دوسرے سے الگ ہوتی جارہی ہے اور فاصلے بڑھ رہے ہیں وہ اِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاریات: ۴۸) کا نقشہ ہے حیرت انگیز اور جس طرف سے ، جس زاویے سے بھی آپ دیکھیں وہاں وقت کے پیمانے بدل جائیں گے۔ہم فی الحال اپنے وقت کے پیمانے میں محدود ہیں اور جو وقت خدا نے ہمیں دیا ہے اس کا خلاصہ وہی ہے جو قرآن کریم نے بیان کر دیا۔اور جو دوسرے اوقات ہیں ان کی طرف ایک اور آیت میں اشارہ فرمایا كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الانبیاء: ۳۴) کہ صرف تم ہی نہیں ہو جومحوری گردش میں مبتلا ہو اور دورانی گردش میں مبتلا ہو ہر چیز ایک بیضوی شکل میں گھوم رہی ہے۔بیضوی شکل کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں کے گولائی ہو، خواہ نسبتا انڈے کی طرز پہ ہو یا جس شکل میں بھی ہو وہ حرکت ، واپس آنے والی ہے یعنی اس میں ایک قسم کی واپسی بھی ہے۔یہ ہے مضمون قرآن کریم نے جو وقت کا ہمارے سامنے رکھا ہے۔اب سوال یہ ہے اس مضمون کے پیش نظر ہمارے لئے اس میں کیا نشانات ہیں۔آیت کا آخری حصہ اس طرف انگلی اٹھا رہا ہے۔خلاصہ اس غور کا وہ مومن جو خدا کو یار رکھتے ہیں، یہ نکالتے ہیں که رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اے خدا ! تو نے اس سارے نظام کائنات کو باطل پیدا نہیں کیا۔بے مقصد اور لغو پیدا نہیں کیا سُبحنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اس لئے اگر ہماری حرکت باطل کی طرف ہوگی تو چونکہ ہم مقصد کا ئنات کے خلاف حرکت کر رہے ہوں گے اس لئے لازماً ہم پکڑے جائیں گے، ہمیں نقصان پہنچے گا۔اس لئے تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ہماری حرکت اس طرف ہو جو باطل کے خلاف ہو۔اب سوال یہ ہے وقت کا ہر لحہ اگر آپ غور کریں چونکہ یہ حرکت کا نام ہے اس لئے حرکت تبھی ہوگی اگر وقت کو بھرا جائے۔اگر وقت کا لمحہ خالی ہو، اس کو کسی چیز سے نہ بھریں وہ تو متحرک ہے ہی نہیں ، وہ وقت ہی نہیں ہے۔تو ایک بات تو یہ ہمارے سامنے آئی اس آیت پر غور کرنے سے کہ ہمارے وقت کا پیمانہ ہمارے اپنے اعمال