خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 291
خطبات طاہر جلد ۶ 291 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء کی ذات سے چودہ صدیوں کی دوری نے مسلمانوں میں پیدا کی اس کے باوجود رمضان کے مہینے کی برکتوں سے بہت سی نیکیاں زندہ ہیں اور بہت سی بدیاں ہیں جو داخل ہوتے ہوتے پھر واپس نکال دی جاتی ہیں۔بہت ہی بڑا احسان ہے اور مضان کا امت محمدیہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے خاص فضل کے ساتھ ہمیں ایک چھلنی عطا کر دی ہے جس میں سے نکل کر بہت سی بدیوں کو ہم جھاڑ کر تازہ دم ہو کر صحت مند ہو کر باہر نکلتے ہیں جسمانی لحاظ سے بھی اس کے بڑے فوائد ہیں، معاشرتی لحاظ سے بھی بڑے فوائد ہیں کسی عبادت کے اتنے گہرے اثرات انسانی استطاعت کے ہر حصہ پر نہیں پڑتے جتنے رمضان کے یا روزوں کے انسانی استطاعت کے ہر حصہ پر پڑتے ہیں کوئی انسانی استطاعت ایسی نہیں ہے جس کا آپ تصور کر سکیں جس پر رمضان اپنا اثر نہ چھوڑ جائے۔کامل طور پر پورے انسان کی زندگی پھر رمضان حاوی ہو جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے رمضان کے متعلق جو چند بہت سی نصائح فرمائی ہیں ان میں سے چند میں آپ کے سامنے پڑھ کے سناتا ہوں تا کہ ان بابرکت اور بے حد گہری تاثیر رکھنے والی نصائح سے آپ استفادہ کر سکیں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان کے سب کام اس کے اپنے لئے ہیں مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزاء بنوں گا یعنی اس کی اس نیکی کے بدلے میں اسے اپنا دیدار نصیب کروں گا۔ابھی چند دن پہلے ہالینڈ میں ایک دوست نے یہی سوال کیا تھا کہ ہر نیکی انسان کی خدا کے لئے ہوتی ہے روزے کو خاص طور پر یہ کیوں کہا گیا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ میرے لئے ہے گویا، تو واقعہ یہ ہے کہ کسی نیکی کا انسان کی ہر طاقت سے تعلق نہیں ہے سوائے روزے کے کسی نیکی کا کچھ طاقتوں سے تعلق کسی کا کچھ اور طاقتوں سے تعلق ہے لیکن پورا وجود خدا کی رضا کے تابع کرنے کے لئے روزے کی ضرورت پیش آتی ہے اس میں ہر قربانی داخل ہو جاتی ہے ہر عبادت داخل ہو جاتی ہے تو گویا جب انسان اپنے پورے وجود کو خدا کے سپر د کر دے تو اس کی جزاء خدا بن جاتا ہے اور اگر پورا وجود نہ دے تو اس کی کچھ نہ کچھ دوسری جزاء ہوگی پورے وجود کا پورا وجود جزاء ہے ان معنوں میں آپ اسے بہتر سمجھ سکیں گے۔یعنی ایک لحاظ سے تو انسان اپنا پورا وجود چھوڑ کے اپنی اگلی پچھلی ساری نسلیں بھی خدا کو دے دے تو اس کے مقابل پر خدا کی ذات کا سودا نہیں ہوسکتا۔اس لئے اس کو آسان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ پیار کے سودے اس طرح فرماتا ہے کہتا ہے اچھا یوں کرتے ہیں تم مجھے پورا دے دو میں پورا تمہارا ہو جاتا ہوں۔اور یہ مضمون روزے میں سمجھ آتا ہے۔اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اسے آسان