خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 277
خطبات طاہر جلد ۶ 277 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۸۷ء ساری زندگیاں نسلاً بعد نسل ایسے اعمال کرتے رہیں جن پر خدازہ کہتا ر ہے تو تب بھی قیامت تک اور قیامت کے بعد تک بھی خدا کے خزانے خالی نہیں ہو سکتے۔وہ جگہ چھوڑ کر جانے والا نہیں ہے۔وہ احسان کرنے والوں سے بے وفائی کرنے والا نہیں ہے۔آپ جتنا نیک عمل کرتے چلے جائیں گے خدا اور خدا کے فرشتے زہ کہتے چلے جائیں گے اور آپ پر لامتناہی انعامات کی بارشیں ہوتی چلی جائیں گی۔یہ وہ درخت ہے جسے قرآن کریم فجر طیبہ کہتا ہے تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبَّهَا (ابراہیم :۲۶) کہ ایسا شجرہ طیبہ مومنوں کو خدا عطا فرماتا ہے کہ وہ ہر آن پھل دیتا چلا جاتا ہے اور موسم کی انتظار نہیں کرتا بِاِذْنِ رَبَّهَا آسمان سے خدازہ کہتا ہے حکم دیتا ہے، تب اس کو پھل لگتے ہیں۔تو دیکھئے یہ فرضی قصہ نہیں ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں۔قرآن کریم میں اس درخت کا ذکر ہے اور فرماتا ہے کہ ہر لمحہ پھل دینے والا ایک درخت ہے جو قرآن تمہیں عطا کرتا ہے۔وہ نیک اعمال کا شجرہ طبیہ ہے جس پر خدا کے حکم سے سوا پھل نہیں لگتا یعنی جو کچھ ملتا ہے آسمان سے آتا ہے اور خدا اس حکم کو دیتے دیتے تھکتا نہیں اگر آپ اس درخت کی حالت بہتر بناتے چلے جائیں گے تو یقین کریں کہ ہر لمحہ خدا زہ زہ! کی آواز بلند کرتا چلا جائے گا اور خدا کے حکم سے اس درخت کو عظیم الشان روحانی پھل لگتے چلے جائیں گے۔پس تقویٰ کی زاد راہ لے کے چلیں۔یہ وہ زاد ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتی۔باقی جتنی تھیلیاں ہیں سفر کے خوراک کی وہ تو خالی ہوتی چلی جاتی ہیں۔جتنا لمبا سفر ہوتا چلا جاتا ہے اتنی تھیلی سکڑتی چلی جاتی ہے اور ایک موقع پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ز ادراہ ختم ہو گیا۔مگر کیا شان ہے قرآن کریم کی کہ ایسا زاد راہ ہمیں بتایا کہ جو ختم نہ ہونے کی بجائے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس تھیلی کا بوجھ محسوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ تھیلی کا بوجھ لے کر آپ نہیں چلتے آسمان سے ضرورت کے مطابق ہر وقت اس کو پھل ملتا چلا جاتا ہے۔پہلے اگر یہ لے کر نہیں بھی چلے تھے تو اب یہ پکڑ لیں یہ ایک نہ ختم ہونے والی رزق کی تھیلی ہے جو دنیا کے رزق سے بھی تعلق رکھتی ہے اور روحانیت کے آسمانی رزق سے بھی تعلق رکھتی ہے۔اگر آپ تقویٰ کے ذریعے اس زندگی کا سفر شروع کر دیں اگر پہلے نہیں بھی تھا اب شروع کر دیں تو دیکھیں گے کہ آپ کی بھی حالت بدلنی شروع ہو جائے گی اور آپ کے ماحول آپ کے گرد و پیش کی حالت میں بھی ایک عظیم انقلابی تبدیلی رونما ہونے لگ جائے گی۔