خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 271

خطبات طاہر جلد ۶ 271 خطبہ جمعہ ۷ اراپریل ۱۹۸۷ء اکٹھے ایک سطح پر ایک دوسرے سے باتیں کر سکیں۔فرمایا انا عِندَ ظَنِ عَبْدِی ہی وہ میرے مطابق نہیں ہوسکتا میں بندے کے مطابق ہو جاتا ہوں میں کہتا ہوں اچھا میں چھوٹا ہو جاتا ہوں تمہارے ساتھ۔جس طرح ماں باپ چھوٹے سے بچے سے تو تلی باتیں شروع کر دیتے ہیں۔یہ تو نہیں کہ ان کو باتیں کرنی بھول جاتی ہیں۔یہ ان کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ،ان کے چھوٹے پن کا اظہار نہیں ہوتا، جس زبان میں بچہ ان سے باتیں کرتا ہے اسی زبان میں وہ اس سے باتیں شروع کر دیتے ہیں۔اگر وہ چھوٹے قد کا ہے تو نیچے جھک جائیں گے، اگر وہ لیٹا ہوا ہے تو پنگھوڑے میں سر رکھ کر اسے پیار کریں گے۔غرضیکہ جس سے پیار ہو اس کے مطابق ہونے کی انسان کوشش کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی یہ راز سمجھایا کہ میں بندے کے مطابق ہو جاتا ہوں۔اس لئے خدا کو سمجھنے کے لئے اپنی فطرت کا مطالعہ کریں۔اپنے جذبات اور احساسات اور اپنے احساسات کے رد عمل کو جانچیں پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہو جائے گا کہ آپ سے خدا کیا توقع رکھتا ہے اور آپ کو خدا سے کیا توقع رکھنی چاہئے۔اگر روزمرہ کی زندگی میں کوئی ایسا شخص آپ کو ملتا ہے جو ضرورت کے وقت دوست بن جاتا ہے اور ضرورت رفع ہونے پر آپ سے استغناء اختیار کرتا ہے، منہ موڑ لیتا ہے، پرواہ بھی نہیں کرتا تو آخر کب تک آپ اس سے پیار کا سلوک کریں گے۔ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ اس کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہ رہیں گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ بھی پھر آخر ایسے بندوں کو چھوڑ دیا کرتا ہے۔اگر نہیں چھوڑا تو غنیمت ہے ابھی اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کریں اور کوشش کریں کہ وہ وقت جب خدا کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت خدا کے بن کر دکھائیں۔آنحضرت ﷺ نے ایک تمثیل کے رنگ میں یہ بات بیان کی کہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن بعض بندوں سے کہے گا، شکوہ کرے گا کہ دیکھو میں بھوکا تھا میں تمہارے پاس آیا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، میں پیاسا تھا اور میں تمہارے پاس آیا مدد کے لئے تم نے مجھے پانی نہ پوچھا اور میں نگا تھا اور تمہارے پاس میں کپڑوں کے لئے آیا تم نے مجھے کپڑے نہ دیئے۔تو بندہ عرض کرے گا اے کائنات کے مالک تو نے ہمیں پیدا کیا ہر چیز تیری ہے تیری طرف لوٹ کے آتی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ تو بھوکا ہو اور میں جو حقیر اور ذلیل اور ادنی آدمی اپنا کچھ بھی نہیں رکھتا میرے پاس تو بھوک مٹانے کے لئے آئے۔کیسے ممکن ہے کہ تجھے پیاس لگی ہو اور میرے پاس پانی مانگنے کے لئے آئے جبکہ میں خود تیرے