خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 270

خطبات طاہر جلد ۶ 270 خطبہ جمعہ ۷ اسر ا پریل ۱۹۸۷ء کی ضرورت کے وقت اس کو بھول جایا کریں تو آپ جانتے ہیں کہ وہ دوست آپکے متعلق کیا سمجھے گا اور رفته رفته اگر تعلق تھا بھی تو وہ گرتے گرتے بے تعلقی اور بعض دفعہ پھر دشمنی میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔آپ کے ساتھ اگر کوئی ایسا سلوک کرے کہ جب ضرورت پڑے آپ کے پاس آ جایا کرے منتیں خوشامد میں کرے، معافیاں مانگے اور کہہ دے کہ اب میرا کام کر دو مجھ سے بڑی غلطیاں ہوئیں۔بسا اوقات آپ اس کی بات مان بھی لیتے ہیں۔رحم کا بھی سلوک کرتے ہیں ،عفو کا سلوک کرتے ہیں، معاف کرتے چلے جاتے ہیں مگر کب تک۔اگر مسلسل اسی طرح کرے کہ جب آپ کو ضرورت پیش آئے تو وہ آپ سے منہ موڑ لے، اعراض کرے بلکہ باتیں بنائے اور کہے کہ تم آگئے ہو اپنا کام کروانے کے لئے تمہیں پتہ ہی نہیں ہماری اور ذمہ داریاں کتنی ہیں۔تمہیں تو ہوش ہی اور کوئی نہیں تم سمجھتے ہو کہ میں خالی تمہاری خاطر بیٹھا ہوں، اگر اس قسم کی باتیں کرے آپ کے دل میں اس کی کیا قدر باقی رہ جائے؟ اللہ بھی بندوں سے بندوں والا معاملہ فرماتا ہے ورنہ وہ تو لا محدود ہے۔ذاتی طور پر وہ کیا سوچتا ہے؟ کس طرح سوچتا ہے؟ اس کے احساسات ہیں یا نہیں ہیں؟ یہ سارے ایسے راز ہیں جن کو خدا کے سوا یا ان بندوں کے سوا جنہیں وہ راز عطا فرمائے اور کوئی نہیں جانتا۔اس کا بندوں سے معاملہ اس طرح ہوتا ہے کہ جیسے بندے ویسا ہی ان کے لئے وہ بن جاتا ہے۔اس لئے خدا کو سمجھنے کے لئے اپنی فطرت کو سمجھنا ضروری ہے ، اپنے احساسات کو پہچاننا ضروری ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے یہ راز ہمیں سکھلا دیا اور بڑا گہرا راز ہے، بہت سادہ سا فقرہ ہے لیکن اس میں معرفتوں کا سمندر پنہاں ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دى أَنَا عِنْدَظَنِ عَبْدِی بی ( بخاری کتاب التوحید حدیث نمبر: ۶۹۵۱) بندے کا ظن تو مجھے سما ہی نہیں سکتا ویسے لیکن میں بندے کے ظن کے مطابق ہو جاتا ہوں۔مطلب یہ ہے کہ چھوٹا سا بچہ ایک لمبے چوڑے قد آور باپ کو تو پہنچ نہیں سکتا، وہ جھک جاتا ہے، نیچے ہو کر اس کی پیشانی کا بوسہ لے لیتا ہے یا اس کو اٹھا کر گلے سے لگا لیتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ کواللہ تعالیٰ نے یہ راز سمجھا دیا کہ بندے خواہ کسی بھی مقام پر ہوں میرے مقابل پر تو اتنے ادنیٰ اور اتنے بے حقیقت ، اتنے بے معنی ہیں ان کا دماغ خواہ بظاہر آسمان کی چوٹیوں سے باتیں کرتا ہو لیکن میرے علم اور میرے فہم اور میرے ہمیشگی کے حکمت کے سرچشمے کے مقابل پر اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔پھر کس طرح ہمارا ملاپ ہو کیسے ممکن ہے کہ ہم