خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد 4 255 خطبه جمعه ۰ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء تو مسلسل خوشخبریوں پہ خوشخبریاں اکٹھی ہوئیں۔لیکن ایک سب سے بڑی خوشخبری ابھی آپ کو بتانے والی باقی ہے۔جس کا تعلق Friday The 10th “ سے ہے۔ایک بہت بڑے مسلمان را ہنما کہ جن کا اتنا وسیع اثر ہے کہ کروڑوں مسلمان ان کی عزت واحترام کرتے ہیں۔انہوں نے کئی کتب لکھیں بہت بڑے عالم دین، کئی زبانوں کے ماہر اور بہت بارسوخ انسان۔ان سے کچھ عرصہ پہلے جمعرات کی شام کو ملاقات مقرر ہوئی تھی۔لیکن یہ بھی عجیب تصرف ہے اللہ تعالیٰ کا کہ کسی وجہ سے تاخیر ہوتے ہوتے جب تک جمعہ شروع نہیں ہو گیا وہ ملاقات بھی شروع نہیں ہوئی۔میں اس سلسلے میں فکر مند تھا اس نقطۂ نگاہ سے کہ یکطرفہ باتیں انہوں نے احمدیت کے متعلق سنی ہونگی اور چونکہ ان سے ملاقات اس نقطۂ نگاہ سے بڑی اہم ہے کہ بہت بڑی تعداد جو کروڑوں کی تعداد ہے مسلمانوں تک احمدیت کا پیغام پہنچانے میں ہمیں سہولت ہو جائیگی اگر ان پر نیک اثر پڑے۔تو فکر مند بھی تھا دعا بھی کی تھی اور اس مجلس میں اپنے دو احمدی دوستوں کو بھی شامل کیا تا کہ ان کی بات کا بھی اچھا اثر پڑے۔جب وہ ہماری ملاقات شروع ہوئی تو عین سورج غروب ہوا جب تو اس وقت اتفاق ایسا ہوا۔اتفاق نہیں بلکہ تصرف کہنا چاہئے کہ میں سات بجے سے انتظار کر رہا تھا مگر آٹھ بجے سے پہلے ملاقات نہ ہوسکی جو سورج غروب ہوا اور جمعہ کا دن شروع ہوا۔ملاقات کے دوران یہ نظر آیا کہ انہوں نے جماعت کے متعلق دوسروں سے باتیں سنی ہوئی تھیں جماعت کے متعلق کوئی علم نہیں اور ان کا رویہ بھی درمیانہ سا تھا کیونکہ شریف انسان تعلیم یافتہ اس لئے وہ بغض کا اظہار تو بہر حال نہیں کر رہے تھے لیکن ایک خشک کا سا تعلق جس طرح ہوتا ہے کوئی قلبی تعلق نہ ہو، کوئی دلچسپی نہ ہو۔لیکن رفتہ رفتہ پھر باتیں شروع ہوئیں تفصیل سے سارے مسائل ان کے سامنے میں نے بیان کئے۔جماعت کیا ہے کیا کر رہی ہے اور امام مہدی کا ذکر کیا ، دعویٰ کیا ہے ، دوسرے مسلمان کیوں مخالف ہیں اور انہوں نے اشارۃ براہ راست کہہ کے تو نہیں اشارہ اس طرح کیا کہ دلیل بھی ہونی چاہئے۔تو میں نے پھر ان کو ایک دو دلائل دیئے ان کو اور اس دوران ان کی شکل تبدیل ہونی شروع ہوئی یعنی محبت کے آثار پیدا ہونے شروع ہوئے واضح اور دیکھتے دیکھتے یوں لگا کہ جس طرح دل پکھل جاتا ہے ایک آدمی کا اور وہ بڑے کم گو ہیں دو باتیں انہوں نے کہیں۔ایک یہ کہی کہ میں اپنی یہ خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہاں آنے کا موقع دیا