خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 249

خطبات طاہر جلد ۶ 249 خطبہ جمعہ ۳ را پریل ۱۹۸۷ء خدا تعالیٰ اس سے پہلے یہ کر چکا ہے جو انبیاء اولاد کی دعائیں مانگتے ہیں وقف کی خاطر مانگتے ہیں تو بعض دفعہ بڑھاپے میں بھی تو اولا د ہو جاتی ہے ایسی صورت میں بھی ہو جاتی ہے کہ بیوی بھی بانجھ اور خاوند بھی ۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو دیکھیں اس شان سے دعا کی تھی یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں میرا سر بھڑک اٹھا ہے بڑھاپے کے شعلوں سے اور ہڈیاں تک گل گئیں اور میری عاقر یعنی اس میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کوئی نہیں ہے لیکن میری یہی تمنا ہے کہ تیری راہ میں ایک بچہ پیش کروں اس لئے میری تمنا کو قبول فرما: وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم:۵) اے میرے رب میں تیرے حضور یہ دعا کرتے کرتے کبھی بھی مایوس نہیں ہوا۔ میں کبھی بھی تیرے حضور مایوس نہیں ہوا شقیا کا لفظ حیرت انگیز فصاحت و بلاغت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا! میں ایسا بد بخت تو نہیں کہ تیرے حضور دعا کر رہا ہوں اور مایوس ہو جاؤں اور تھک جاؤں ۔ اس عظمت کی اس درد کی دعا تھی کہ اسی وقت دعا کی حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے بیٹی کی خوش خبری دی خود اس کا نام رکھا اور اس میں بھی عظیم الشان خدا کے پیار کا اظہار ہے۔ عجیب کتاب ہے قرآن کریم ایسی ایسی پیار کی ادائیں سکھاتی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے محبت آپ کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے آپ سوچتے ہیں کس سے نام رکھواؤں اور اسی جذبہ جو لگی ہی۔ سے جماعت احمد یہ کو ہر خلیفہ وقت سے ہوتی ہے بعض لوگ بلکہ بڑی کثرت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ نام رکھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے پیشتر اس کے کہ حضرت زکریا کہتے کہ اے خدا میں اس کا کیا نام رکھوں یا سوچتے کہ میں کیا نام رکھوں خوشخبری کے ساتھ ہی فرمایا اسمه یحیی (مریم:۸) ہم رکھ رہے ہیں نام ۔ یہ پیار حضرت زکریا علیہ السلام سے تھا اور حضرت زکریا علیہ السلام کے دعا سے پیار تھا۔ پس اس رنگ میں آپ اگلی صدی میں جو خدا کے حضور تھے بھیجنے والے ہیں یا بھیج رہے ہیں مسلسل احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بے شمار چندے دے رہے ہیں مالی قربانیاں کر رہے ہیں ، وقت کی قربانیاں کر رہے ہیں، واقفین زندگی ہیں ، تو ایک تحفہ جو مستقبل کا تحفہ ہے وہ باقی رہ گیا تھا۔ مجھے خدا نے یہ توجہ دلائی کہ میں آپ کو بتادوں کہ آئندہ دو سال کے اندر یہ عہد کر لیں کہ جس کو بھی جو اولا د نصیب ہوگی وہ خدا کے حضور پیش کر دے گا اور اگر آج کچھ مائیں حاملہ ہیں تو وہ بھی اس