خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 250
خطبات طاہر جلد ۶ 250 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء تحریک میں اگر پہلے شامل نہیں ہو سکی تھیں تو اب ہو جائیں وہ بھی یہ عہد کر لیں لیکن ماں باپ کومل کر کرنا ہوگا دونوں کو اکٹھے فیصلہ کرنا چاہئے تا کہ اس سلسلے میں پھر پجہتی بھی پیدا ہواولاد کی تربیت میں اور بچپن سے ان کی اعلیٰ تربیت کرنا شروع کر دیں اور اعلیٰ تربیت کے ساتھ ان کو بچپن سے ہی اس بات پر آمادہ کرنا شروع کریں کہ تم ایک عظیم مقصد کے لئے کے عظیم الشان وقت میں پیدا ہوئے ہو جبکہ غلبہ اسلام کی ایک صدی، غلبہ اسلام کی دوسری صدی سے مل رہی تھی اس جوڑ پر تمہاری پیدائش ہوئی ہے اور اس نیت اور دعا کے ساتھ ہم نے تجھ کو مانگا تھا خدا سے کہ اے خدا تو آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے اس کے عظیم الشان مجاہد بن جاؤ۔اگر اس طرح دعائیں کرتے ہوئے لوگ اپنے آئندہ بچوں کو وقف کریں گئے تو مجھے یقین ہے کہ بہت ہی حسین اور بہت پیاری ایک نسل تمہاری آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں قربان کرنے لئے تیار ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔ہماری جماعت کے ایک بہت ہی مخلص اور ہر دل عزیز خادم، انگلستان کی جماعت کے بہت ہی معروف پرانے خادم ہیں یعنی ہدایت اللہ صاحب بنگوی ان کی درخواست آئی ہے کہ مکرمہ فضل بی بی صاحبہ جوان کی تایا زاد بہن اور بھا وجہ تھیں اور موصیہ تھیں اور بہت ہی مخلص فدائی احمدی تھیں وہ بہت دعا گو بزرگ خاتون تھیں وہ ۹۲ سال کی عمر میں وفات پاگئی ہیں اور ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے۔ان کے ساتھ ہی تین اور جنازوں کے لئے اطلاع ملی ہے ان کی بھی ان کے ساتھ ہی نماز جنازہ غائب ہو گئی۔انصری بیگم صاحبہ موصیبہ تھیں قاضی رشیدالدین صاحب واقف زندگی پیشنر ربوہ کی اہلیہ تھیں۔بشیر بی بی صاحبہ چوہدری محمود نواز صاحب چک 9 پنیار ضلع سرگودھا کی اہلیہ تھیں اور مکرم سردار احمد صاحب سعد اللہ پور ضلع گجرات کے ممبر جماعت احمد یہ ہیں ان کی تفصیل مجھے بتائی نہیں گئی۔بہر حال ان سب کی نماز جنازہ غائب انشاء اللہ جمعہ کے معا بعد ہوگی۔