خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 245

خطبات طاہر جلد ۶ 245 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۸۷ء پیاری ہے پھر خیال آیا کہ زیادہ پیاری ہے اور پھر آخر وہی پیش کی۔چنانچہ ہمایوں کے متعلق بھی بابر نے جب یہ سوچا کہ ہمایوں کی زندگی بچانے کے لئے میں خدا کے سامنے اپنی کوئی پیاری چیز پیش کروں تو کہتے ہیں کہ بابر اس کے گرد گھومتا رہا اور اس نے سوچا کہ میں یہ ہیرا جو بہت پیارا ہے یہ دے دوں اسے خیال آیا یہ ہیرا کیا چیز ہے میں یہ دے دوں پھر خیال آیا کہ پوری سلطنت مجھے بہت پیاری ہے۔یہ پوری سلطنت دے دیتا ہوں اور پھر سوچتا رہا پھر آخر اس کو خیال آیا اس کے نفس نے اس کو بتایا کہ تمہیں تو اپنی جان سب سے زیادہ پیاری ہے۔اس وقت اس نے عہد کیا اور خدا سے دعا کی کہ اے خدا! واقعی اب میں سمجھ گیا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ پیاری چیز میری جان ہے، میری جان لے لے اور میرے بیٹے کی جان بچالے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ واقعہ اس وقت کے بعد سے ہمایوں کی صحت سدھرنے لگی اور بابر کی صحت بگڑنے لگی۔تو لوگ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کیا چیز پیاری ہے اور کیا کم پیاری ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں سوچا بلکہ اپنا سب کچھ پیش کر دیا اپنا سونا، جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا چونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی ہر چیز پیاری ہوتی ہے۔اپنی ہر چیز پیاری ہوتی ہے اور جب وہ زیادہ پیاری چیز دیتا ہے تو اس کے دل میں اطمینان رہ جاتا ہے کہ کچھ کم میں نے اپنے لئے بھی روک لی ہے اس سے کم جب پیاری دے دیتا ہے تو پھر اس کو کچھ نہ کچھ اپنے ہاتھ میں بھی دکھائی دیتا ہے اور وہ پھر اس کے بعد اس سے سب سے زیادہ پیار ہو جاتا ہے جو چیز پیچھے ہٹتی چلی جاتی ہے وہ زیادہ پیاری ہوتی چلی جارہی ہوتی ہے۔کسی ماں کا سب سے لاڈلا بچہ مر جائے تو دوسرے بچے سے پہلے سے بڑھ کر پیار ہو جاتا ہے اور یہ مضمون انسانی فطرت کے ہر پہلو پر حاوی ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے یہ سودا نہیں کیا کہ اے خدا میں نے اپنی سب سے پیاری چیز جب پیش کر دی یعنی اپنی جان دے دی اس لئے اب باقی چیزیں میری رہ گئیں لیکن فرما یا قُل اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) اے محمد ! تو محبت کرنا سکھا ان غلاموں کو۔یہ تیرے غلام بن چکے ہیں مگر نہیں جانتے کس طرح مجھ سے محبت کے جائے تو محبت کے راز بتا ان کو۔ان سے پتا چلتا ہے کہ خدا کا حکم نہ ہوتا تو آنحضرت ﷺ کے در پردہ عشق کے راز نہ بتاتے کسی کو۔یہ بھی ایک عجیب حسین پہلو ہے جو میری نظر میں ابھرا اور بے ساختہ دل اور فریفتہ ہو گیا۔بعض جگہ حکماً خدا تعالیٰ نے اپنے راز و نیاز کی باتیں بنی نوع انسان