خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 240
خطبات طاہر جلد 1 240 خطبہ جمعہ ۳ را پریل ۱۹۸۷ء محبت کرو محمد مصطفی ﷺ سے کہ تمہیں استطاعت نہ رہے نافرمانی کی گویا کہ فوری طور پر تمہاری ساری طاقتیں آنحضرت کے سپر د ہو جائیں ۔ کیوں ہو جائیں؟ اس کی دلیل قرآن کریم دوسری جگہ دے رہا ہے۔ فرماتا ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) (الانعام : ۱۶۳) کہ میں یہ نہیں کہتا کہ تم میرے غلام بن جاؤ سب کچھ ، میرے سپرد کر دو میری پیروی عاشقانہ شروع کر دو اس لئے نہیں کہ میری اپنی ذات میں کچھ رکھا ہے۔ میں تو اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں، میں نے اپنا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا ۔ یہی اعلان کروارہا ہے خدا قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِی میری ساری عبادتیں ان کا ایک ایک پہلو ، میرے سارے روزے اور قربانیاں اور ان کا ہر پہلو، میرا تو مرنا اور جینا سب کچھ خدا کے لئے ہو چکا۔ صلى الله پس آنحضرت ﷺ کے متعلق جب خدا یہ فرماتا ہے ان کے سپر د ہو جاؤ تو اس لئے نہیں کہ علی سه ایک بشر کو دوسرے بشر کے سپر د ہونے کا حکم دیا جا رہا ہے بلکہ اس لئے کہ ایک بشر کو ایک ایسے وجود کے ر ہونے کا حکم دیا جا رہا ہے جس نے اپنی بشریت کو فنا کر کے کلیہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد سپرد کر دیا تھا۔ یہ اگر ہوتو پھر تمام انعامات کے دروازے کھلے ہیں مگر اس موقع پر انعامات کا ذکر نہیں ایک اور پہلو بیان کیا جار ہافرمایا الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ (الزمر :۵۴) وہ لوگ جنہوں نے بڑے بڑے گناہ کئے ہیں، پہاڑوں کے برابر خواہ گناہ کئے ہوں پھر بھی انہیں کوئی خوف نہیں ہے اگر وہ محمد مصطفی ﷺ کے پیچھے لگ جائیں گے اور غلاموں کے طرح پیچھے لگیں گے تو ان کے وہ سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے کیونکہ خدا تمام گناہ بخشنے کی طاقت رکھتا ہے۔ شرط یہ ہے صلى الله علي کہ محمد مصطفی ﷺ کے عباد بن جاؤ۔ صلى الله عروسة چنانچہ یہ جو تثلیث کا مسئلہ اور ہماری خاطر نجات دہندہ نے اپنے آپ کو نعوذباالله من ذالک لعنت میں ڈالا یہ جو تصور پیش کیا تھا ان سب کا بطلان کر دیا اس آیت میں ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کو تو سپردگی چاہئے ۔ پس وہ وجود جو خدا کے سپر د ہو گیا کلیۂ کامل طور پر اس کا ہو گیا اگر تم اس کے پیچھے آنا چاہتے ہو تمہیں یہ خوف دامن گیر نہ رہے کہ ہم گناہ گار ہیں ہم کیسے پیچھے لگیں گے۔ ہم کہاں ہوتے ہیں حمد مصطفی ہی کی پیروی کرنے والے یہ خیال دل میں پیدا ہو سکتا ہے۔ فرمایا نہیں اگر اس وجود کی صلى الله علیه