خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 233

خطبات طاہر جلد ۶ 233 خطبه جمعه ۳ اپریل ۱۹۸۷ء غرضیکہ اس مضمون کا احاطہ تو نہیں ہوسکتا لیکن خلاصہ ایک انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں اس لئے کہ تیری محبت کی وجوہات اور تیرے حسن کی شہادتیں ساری دنیا میں بکھری پڑی ہیں پھر تیرے حکم سے ہم کیسے محبت کرنے لگیں۔اس حکم کے اندر چونکہ خدا تعالیٰ حکمت کاملہ رکھتا ہے اس حکم کے اندر کوئی غیر منطقی بات نہیں ہو سکتی۔اس لئے اس بات کو تو بہر حال ہمیں کلیۂ فراموش کر دینا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ حکم کے نتیجہ میں محبت چاہتا ہے۔اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تو اس کے جواب میں وہ بھی محبت کا ایک اظہار فرماتا ہے اور آپ کو ایک ایسی چیز کی طرف یا ایک ایسی ہستی کی طرف جواباً اشارہ کرتا ہے کہ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو میں اپنی محبت کا ایک ظاہری عکس ایسا انسانوں میں بھی تمہیں بتاتا ہوں کہ جس طرح کائنات کا تم مشاہدہ کرتے ہو اور اس میں ہر طرف حسن دیکھتے ہو اور عاشق ہوتے چلے جاتے ہو اس طرح ایک ایسی محبوب ہستی میں تمہیں بتا تا ہوں کہ جو میرے عشق کی وجہ سے سنوری ہے، میری محبت کے نتیجے میں اس میں حسن پیدا ہوا ہے۔اس کو دیکھو اور اس پر عاشق ہو جاؤ اور عاشقانہ اس کی اطاعت کرو۔یہ مضمون ہے جو اس آیت میں مخفی ہے اور دوسری آیات میں اس کا کھلا کھلا اظہار فرما دیا گیا ہے۔پس جواب گویا خدا کی طرف سے یہ ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت تو ہے یا ارادہ ہے یا خواہش ہے کہ بچی اور حقیقی محبت کرو لیکن کوئی ایسا عاشق صادق تمہیں معلوم نہیں جس کے ساتھ میں نے بھی محبت کی ہو۔اس لئے اگر تم اس کے پیچھے چلو جس کے ساتھ میں نے محبت کی ہے تو لا ز ما قطعی طور پر میں بھی تم سے محبت کرنے لگوں گا اور جس سے خدا محبت کرتا ہے وہ لازما حسین ہوگا کیونکہ قابل نفرت وجود سے خدا محبت نہیں کر سکتا محض کسی کی محبت کی وجہ سے محبت نہیں کر سکتا۔جس شخص کے متعلق خدا یہ کہتا ہے کہ میں نے اس سے محبت کی ہے یہ اس کے اندر مضمر ہے اس کے بغیر بات بنتی کوئی نہیں اس لئے لازما اسے Understood جس طرح کہتے ہیں، اس کے اندر مخفی اور پوشیدہ پیغام کے طور پر آپ کو دیکھنا پڑے گا ورنہ کوئی منطقی بات نہیں بنتی۔اگر تم محبت کے دعوے دار ہو تو محبت چاہتے ہو، میں تمہیں ایک ایسے شخص کا پتا بتا تا ہوں جو مجھ سے محبت میں انتہا کر گیا اور جو خود بھی اتنا حسین تھا اور میری محبت کے نتیجے میں مزید اس کا حسن چکا تو میں نے اس سے بہت محبت کی پس تم ان رستوں پر چل پڑو، جن رستوں پر وہ چلتا ہے تم میں بھی اک حسن پیدا ہونا شروع ہو جائے گا اور میں تمہارے