خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 234
خطبات طاہر جلد ۶ حسن سے بھی محبت کرنے لگوں گا۔234 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۸۷ء یہ ہے مکمل جواب جو اس آیت میں دیا گیا۔اس کی تائید میں قرآن کریم میں مختلف آیات میں مختلف رنگ میں ہمیں ذکر ملتا ہے ان میں سے ایک آیت جو میں نے ابھی تلاوت کی تھی وہ اس مضمون کو ایک بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے فرمایا:۔قُلْ إِنْ كَانَ أَبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَ تُكُمْ وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِه وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ کہ اے محمد ! یہ بھی اعلان کر کہ اگر تمہارے آباؤ اجداد اور تمہاری اولادیں، تمہاری آئندہ نسلیں اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے قبائل اور قو میں اور وہ اموال جن کو تم کماتے ہو اور محنت کے ساتھ حاصل کرتے ہو اور وہ تجارتیں جن کے متعلق خوف دامن گیر رہتا ہے کہ کہیں نقصان نہ ہو جائے اور وہ رہنے کے گھر جن سے تم راضی ہو یعنی وہ محلات اور مکانات جو تمہاری تمناؤں کے مطابق بنائے گئے ہوں اَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ تمہیں اللہ اور اس کے رسول ع سے زیادہ پیارے ہیں اور خدا کے رستے میں جہاد سے زیادہ پیارے ہیں فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِ و پر تم انتظار کرو یہاں تک کہ خدا اپنا فیصلہ صادر فرمادے۔یعنی کیا مطلب ہے ایسا فیصلہ صادر فرمادے جس سے تمہاری محبت کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اور خدا کا پیار پانے کی بجائے اس کی تم ناراضگی کو دیکھ لو۔چنانچہ فرمایا وَ اللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفُسِقِيْنَ خدا تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔تو فسق کی یہ تعریف فرمائی ہے قرآن کریم نے اور فسق کی یہ تعریف آپ کو دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی۔فسق سے تو ہم عموما یہ سمجھا کرتے تھے کہ گناہ کرنا، واضح طور پر نا پسندیدہ حرکت کرنا فسق کو محبت کے مضمون میں داخل فرما دیا قرآن کریم نے اور عدم محبت کو فسق قرار دیا۔فرمایا محمد مصطفی ﷺ کی محبت بھی خدا کے بعد لازم ہے اگر تم اس وجود سے محبت نہیں کرتے