خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 226

خطبات طاہر جلد ۶ 226 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء آغاز اللہ کی محبت سے نہیں کرتے اس لئے وہ پیروی خالی رہتی ہے۔اس کے کوئی بھی معنی نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کے نتیجے میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کریں تو اس سے آپ کے دل میں تقویٰ پیدا ہو گا اور اس کے نتیجے میں آپ کے دل میں ایک مستقل حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہوں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو خوب کھول کر اپنی کتب میں مختلف پیراؤں میں بیان فرمایا ہے۔تقویٰ کے نتیجے میں انسان کو عقل کیسے حاصل ہوتی ہے؟ تقویٰ اور عقل دراصل ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ (الانفال:۳۰) وَيَجْعَلْ لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِه (الحديد: ۲۹) قرآن کریم کی اس آیت میں۔اللہ فرماتا ہے: ”اے ایمان والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ تم میں اور غیروں میں فرق رکھ دے گا۔یعنی تقوی اگر دل میں ہو اور جس طرح تقویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھا اور بیان فرمایا ہے تو ہو نہیں سکتا کی ایک احمدی اور ایک غیر مذہب والے میں فرق نظر نہ آئے۔یہ وہ بنیادی چیز ہے جو ہمارے لئے ہمیشہ کسوٹی کا کام دیتی رہے گی اور اس کسوٹی پر ہمیں اپنے آپ کو پرکھنا پڑے گا۔زندگی کے کسی شعبے سے ایک احمدی کا تعلق ہو اس کے دل میں تقویٰ اللہ تعالیٰ نے ڈالا ہے اور اس کا عمل تقویٰ پر مبنی ہے تو قرآن کریم کے اس بیان کے مطابق جس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی۔يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا تم میں اور تمہارے غیروں میں اک فرق رکھ دے گا۔یہ بھی بڑا دلچسپ مضمون ہے یہ نہیں فرمایا کہ تم فرق پیدا کرو گے۔فرق پیدا کر دے گا بھی