خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد ۶ نہیں فرمایا، فرق رکھ دے گا۔227 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء یہ بہت ہی عظیم کلام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فصاحت اور بلاغت کا فرمایا یہ ایک موقع ہے۔فرماتے ہیں یہ جو تقویٰ ہے یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہوتا ہے۔تقویٰ کا پھل بھی خدا کی طرف سے ملتا ہے اور جو انسان فرق کر کے دکھانا چاہتا ہے اس کے لئے ایک کوشش درکار ہوتی ہے۔لیکن یہاں بچے تقویٰ کے نتیجے میں پھل کے طور پر آسمان سے یہ فرق ظاہر ہوتا ہے۔گویا خدا اس شخصیت میں سجا رہا ہے، رکھ رہا ہے چیزیں کہ یہاں میں یہ فرق رکھ رہا ہوں اور جو فرق خدا رکھتا ہے اس فرق میں اور انسان کی کوشش سے پیدا کئے ہوئے فرق میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔خدا کا رکھا ہوا فرق بالکل اور چیز ہے۔اس کی کیفیت ہی اور ہے۔اس کی کوئی تشبیہ آپ دے نہیں سکتے دنیا میں کسی اور چیز سے۔ایک خلق ہے جو انسان اپنی کوشش سے بناتا ہے اور ایسا خلق آپ کو دنیا کی ہر تہذیب میں دکھائی دے گا۔وہ بھی ایک فرق ہوتا ہے۔غیر اخلاقی قوموں کی نسبت اخلاق یافتہ قومیں زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔وہ جو اخلاق باختہ قومیں ہیں ان میں اور اخلاق یافتہ قوموں میں ایک ایسا فرق ہے جو ہر ایک آدمی کو دکھائی دیتا ہے۔مگر یہ جو فرق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں وہ خدا رکھتا ہے۔ان اخلاق یافتہ قوموں میں یہ لوگ بالکل ممتاز دکھائی دیتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تقویٰ کے نتیجے میں ایک اخلاقی برتری عطا فرمائی ہے۔ان کے مقابل پر جیسے زمین کو آسمان سے کوئی نسبت نہیں یعنی دنیا والوں کے اخلاق سے یعنی خدا سے اخلاق پانے والوں کی کوئی نسبت نہیں رہتی۔پھر فرق کیا ہے؟ وہ عقل کل ہے جس کو آپ اخلاق کہہ لیں یا نور کہ لیں یا تقویٰ کا عملی اظہار کہہ لیں جو نام بھی آپ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی روشنی میں تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔یہ فرق ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آجائے گا اور تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہوگا۔“ یہ بات ہے کہ انکل کی بات میں بھی نور ہو گا۔ہر صاحب فہم جانتا ہے کہ یہ بات سوائے