خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 215

خطبات طاہر جلد ۶ 215 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء پر حضرت اقدس محمد مصطفی می ﷺ نے اللہ کی طرف یہ حدیث ، یہ حکایت منسوب کرتے ہوئے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ اہل جنت کو کہے گا اے جنت کے رہنے والو!۔وہ جواب دیں گے اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں، تمام سعادتیں تیرے پاس ہیں اور سب بھلائی تیرے قبضہ میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو؟ جنت میں رہنے والے عرض کریں گے اے ہمارے رب! ہم کیوں نہ خوش ہوں۔تو نے ہمیں وہ کچھ دیا جو اپنی مخلوقات میں سے کسی کو نہیں دیا۔پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں ان نعمتوں سے بہتر نہ دوں؟ جنت والے کہیں گے ان سے بہتر اور کوئی نعمت نہیں ہو سکتی یا ان سے بہتر اور کوئی نعمت بھی ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم پر اپنی رضا نازل کروں گا۔یعنی تم سے ہمیشہ کے لئے خوش ہو جاؤں گا اور اس اس کے بعد کبھی بھی تم سے ناراض نہ ہوں گا“۔(مسلم کتاب الحیۃ حدیث: ۵۰۵۷) یعنی عام انسان کی جنت تو وہ جنت ہے جس کا ظاہری الفاظ میں ہم سے وعدہ کیا گیا ہے اور اس کی جو بھی شکل ہے وہ بھی پوری طرح ہم پر روشن نہیں۔اس میں تو کوئی بھی شک نہیں وہ بھی ہم پر مخفی ہے مگر حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر ہمارے لئے یہ معاملہ ہمیشہ کے لئے کھول دیا کہ خدا کے خالص بندوں کی جنت وہ جنت نہیں ہے جسے عام دنیا کے لوگ دودھ کی نہروں اور شہد والی جنت سمجھتے ہیں بلکہ اس سے پرے سب سے اعلیٰ مرضی مولا کی جنت ہے۔اس میں وہ بسنا چاہتے ہیں اور اس جنت میں وہ مرنے کے بعد نہیں بستے بلکہ اس دنیا سے ہی بسنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم جو فرماتا ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اغین اس کا ایک معنی یہ ہے کہ دوسروں کو خبر نہیں ہو سکتی سوائے خدا سے محبت کرنے والوں کے کہ ان کے لئے اس محبت میں کیسی کیسی لذتیں پوشیدہ ہیں۔جیسے دنیا والے کہتے ہیں ظالم تو نے پی ہی نہیں، تجھے کیا پتا ہے کہ شراب کا کیا مزہ ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ سے مراد یہ ہوگی کہ دوسرا شخص جس کو خدا کی محبت کا تجربہ نہیں ہے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا کہ وہ کیا لذتیں ہیں جو خدا نے ان کے لئے مخفی کر رکھی ہیں اور لفظ مخفی کرنے میں ایک خاص لطف ہے جیسے ہم انگریزی میں