خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 209
خطبات طاہر جلد ۶ 209 خطبه جمعه ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء صلى الله علي انسانی فطرت سے یہ ممکن ہی نہیں ۔ ہے کہ وہ بے مقصد نیکی کرے اور اگر کوئی شخص پوشیدہ نیکی میں انتہا کر دیتا ہے تو یقینی طور پر اس کی نیکی کا محرک خدا کی محبت ہے۔ پس اس مضمون کو خدا کی محبت سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ اس سے زیادہ گہرائی کے ساتھ اور مضبوطی کے ساتھ کوئی مضمون خدا کے محبت میں نہیں باندھا جا سکتا ۔ مائیں تو کہتی ہیں سوتے پتر دامنہ کی چمنا یعنی فائدہ کیا حالانکہ ماں کو پیار بے ساختہ ہوتا ہے وہ چاہتی ہے بیٹے سے پیار کرے تو کہتے ہے سوتے پتر دا کی منہ چمنا یعنی جو سو یا ہوا بیٹا ہے اس کو پیار کرنے کا کیا فائدہ ہے آگے سے پتہ ہی نہ چلے اس کو کیا ہو رہا ہے۔ تو ایسی کایا پلٹ دے حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کہ منہ چومنے کے لئے پیر کو پہلے سلانے لگے جب ان کی آنکھیں بند ہو جاتی تھیں جب وہ غافل ہو جاتے تھے پتا ہی نہیں لگتا تھا کہ کون منہ چوم رہا ہے تب خدا کے نام پر وہ ان کے منہ چومتے تھے ، ان غریبوں کو سینے سے لگاتے تھے۔ کیسی عظیم الشان کا یا بیٹی اور خالصہ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے نتیجے میں حسن پیدا ہوا ہے ور نہ ہو ہی نہیں سکتا کسی سوسائٹی میں ایسا عظیم الشان حسن ۔ پھر فرمایا ساتویں وہ مخلص جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی محبت اور خشیت سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں کچھ نہیں اکیلے میں اللہ یاد آیا اس کے پیار کی باتیں یاد آئیں اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کو بھی خدا کبھی نہیں بھولے گا اور قیامت کے دن جب کوئی اور سایہ نہیں ہوگا ، خدا کی رحمت کا سایہ اس کے سر کو بھی ڈھانپ لے گا۔ پس اگر تقویٰ سیکھنا ہے تو حضرت محمد مصطفی ﷺ سے سیکھیں اور تقویٰ کی سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ حسین صورت وہی صورت ہے جو محبت الہی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے گو یا محبت الہی اور تقویٰ ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔ اس مضمون پر انشاء اللہ تعالیٰ بقیہ حصہ میں آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا کیونکہ یہ ہے بہت ہی پیارا اور بہت ہی بنیادی اور اہم مضمون ہے اور میں چاہتا ہوں سو سالہ جشن سے پہلے پہلے جماعت تقوی سے اس قدر ایسی حسین اور مزین ہو چکی ہو کہ بجھی ہوئی دلہن کی طرح جو اپنے حسن کے عروج پر ہو اور پھر سجائی گئی ہو اس طرح اگلی صدی میں داخل ہو رہی ہو۔ خدا کرے کے ایسا ہی ہو۔ آمین ۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔ بعض احباب کی اور بعض خواتین کی ، بعض نوجوانوں کی پچھلے ایک ہفتے کے اندر وفات ہوئی