خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 205
خطبات طاہر جلد ۶ 205 خطبه جمعه ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء اور پھر جب سمجھ آئے گا تو پھر اگلا مرحلہ ہے اس مضمون کو اپنی زندگی میں جاری کرنا۔ یہ بعض دفعہ اتنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک چھوٹے سے ارشاد کو بھی انسان اپنی زندگی میں جاری کرتے ہوئے بڑی دقتیں محسوس کرتا ہے۔ اب یہی مسلہ ہے مثلاً الحب فی الله ۔ بڑے وسیع تجربے کے بعد میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ابھی تک ہماری جماعتیں تقویٰ کے اس معیار پر پوری نہیں آئیں۔ بہت شاذ جماعتیں ہیں جن کے متعلق پورا اطمینان ہے ایک خالصہ اللہ محبت ہے اور خالصہ اللہ بغض ہے۔ لیکن بہت سی جماعتیں ہیں جہاں ایک عنصر ہر وقت موجو د رہتا ہے جن کی محبت کبھی کبھی بظاہر خدا کی محبت دکھائی دے رہی ہوتی ہے لیکن پھر وہ دوسری دفعہ کسی اور موقع پر ان کی محبت کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے یا اس کا راز کھل جاتا ہے اور اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ نہیں ان کی محبت تو انسانی محبت تھی یونہی خدا کے نام پر چل رہی تھی۔ اگر جماعت اس مضمون کو سمجھ جائے تو ایسا حیرت انگیز مضبوط نظام ابھرے دنیا میں کہ اس میں کوئی دشمن کبھی رخنہ نہ ڈال سکے۔ کتنی چھوٹی سی بات ہے لیکن اس چھوٹی سی بات کے اندر ہے۔ بھی قوموں کی زندگی اور ان کی بقا کا راز ہے، روحانی قوموں کی زندگی اور ان کی بقا کا راز ہے۔ پھر فرمایا وہ پاکباز مرد جس کو خوبصورت عورت اور با اقتدار عورت نے بدی کی طرف بلایا ہو اور اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔ عام حالات میں حسن کی کشش کا مقابلہ کرنا ایک بڑا ہی مشکل کام ہے لیکن رسول اکرم ﷺ کی شان دیکھیں اس کے ساتھ با اقتدار کا لفظ داخل فرمادیا۔ با اقتدار تو اگر بدصورت بھی ہو تو انسانی فطرت یہ ہے کہ اس سے تعلق باندھنے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے۔ بعض دفعہ اعلیٰ نسب کی خاطر نہایت ہی منحوس اور بدصورت عورتوں کو بھی انسان قبول کر لیتا ہے، خاندان اونچا ہے ، مقام اونچا ہے ، مرتبہ اونچا ہے ۔ تو دیکھیں آزمائش کے مقام کو کہاں تک رسول اکرم ﷺ نے پہنچا دیا۔ فرمایا حسین عورت ہو اور پھر با اقتدار ہو، وہ بلارہی ہو اور پھر انسان کہے کہ نہیں میں نے یہ کام نہیں کرنا۔ ایسے شخص کو بھی خدا پھر کبھی نہیں بھولتا اور قیامت کے دن اس کے اوپر خدا کی رحمت کا سایہ ہوگا۔ صلى الله اس میں دراصل سورۃ یوسف کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے ایک چھوٹے سے فقرے میں روح بیان کر دی ہے حضرت یوسف کی نیکی کی ۔ عام لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ کیوں خدا تعالیٰ نے یوسف کو اتنا عظیم الشان مقام عطا فرمایا کہ قرآن کریم نے اس کے نام کی ایک سورۃ جاری فرمادی ہمیشہ ہمیش کے