خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 204

خطبات طاہر جلد ۶ 204 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء الحب في الله کا مضمون سیکھ جائے اور البغض فی اللہ کا مضمون سیکھ جائے تو حقیقت یہ ہے کہ یہی دنیا ہمارے لئے امن کا گہوارہ بن جائے اور جنت نشان ہو جائے۔پھر حضرت رسول اکرم علیہ فرماتے ہیں اور یہ بھی ایک مشکل مضمون ہے اسی لئے اسے خاص طور پر چنا ہے۔اکثر ہماری محبتیں جس کو ہم خدا کے لئے کہتے ہیں ان کا اگر آپ تجزیہ کریں تو پتا لگے گا کہ اپنی محبت کے نام ہم نے خدا کی محبت رکھ دیا ہے اس لئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے اس ہدایت میں۔اپنی محبتوں کا تجزیہ کرنا شروع کریں۔آپ حیران ہوں گے کہ شاذ کے طور پر آپ کی محبت ہے جو خالصہ للہ ہو گی ورنہ اکثر محبتیں اپنی ہیں اور انہی محبتوں کو آپ خدا کی محبت قرار دے رہے ہوتے ہیں۔مثلاً ایک امیر ہے آپ اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس سے پیار کرتے ہیں، اس سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس معاملہ میں غلطی سے بہت ہی خدا کی محبت کی خاطر محبت کرنے والا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔جماعت کا امیر ہے ،اس سے تعلق ہے، اس کے کہنے پر اس کی فرمانبرداری میں آپ جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔تو اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا کہ آپ کو خدا سے محبت ہے اور خدا کی محبت کی خاطر کر رہے ہیں لیکن اگلے سال الیکشن ہوتا ہے وہ امیر بدل جاتا ہے ایک اور امیر آ جاتا ہے جسے آپ اپنے سے ادنیٰ سمجھ رہے ہیں ، ایک اور امیر آجاتا ہے جس کی عادات آپ کو پسند نہیں ہیں تو اچا نک آپ اس کے خلاف پرو پیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں کہتے ہیں یہ ویسا نہیں ہے پہلا امیر کہاں اور یہ امیر کہاں، اس میں تو وہ خصلتیں ہی نہیں جس کے نتیجے میں انسان اس کی پیروی کرے۔وہیں آپ کی محبت کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔وہیں پتا چلتا ہے کہ جتنے سال بھی آپ نے اس امیر سے محبت کی اس کی اطاعت کی اس کی خاطر جماعت کی خدمت کی وہ ساری نفس کی محبت تھی خدا کی محبت کا اس میں کوئی بھی دخل نہیں تھا۔اس لئے آنحضرت ﷺ کے ہر ارشاد کے پیچھے ایک بہت ہی وسیع مضمون پوشیدہ ہوتا ہے اور اس میں ڈوب کر اس کی گہرائی میں جا کر آپ کو پھر حقیقی طور معلوم ہوگا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔اسی لئے میں یہ زور دیتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات سن کہ آپ کے تجارب میں شریک ہونے کی کوشش کریں اور جب تک آپ ارشادات پر پوری توجہ کے ساتھ غور نہیں کریں گے۔یہ عام آدمی کا کلام تو ہے نہیں کہ سطحی طور پر کہا گیا اور سطحی طور پر آپ کو سمجھ میں آجائے۔اس لئے جب تک آپ پوری توجہ کے ساتھ اس پر غور نہیں کریں گے آپ کو پہلے تو اس کا مضمون ہی نہیں سمجھ آئے گا