خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 203

خطبات طاہر جلد ۶ 203 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء اسی لئے صرف اسلام ہی میں نہیں دنیا کے ہر مذہب میں ایک خاص عبادت گھر کا تصور قائم فرمایا گیا ہے اور کوئی بھی دنیا کا ایسامذ ہب نہیں جہاں عبادت کا مضمون تو نظر آتا ہولیکن عبادت خانہ نہ نظر آتا ہو حالانکہ عبادت تو گھروں میں بھی ہوسکتی ہے، جنگلوں میں بھی ہوسکتی ہے ،شہروں میں بھی ہو سکتی ہے تو رسول اکرم ﷺ نے عبادت کے سوا جب مساجد کا ذکر فرمایا تو اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ایسے بھی بعض عبادت کرنے والے ہوں گے جنہوں نے جوانی عبادتوں میں کاٹی ہے لیکن مساجد کے ساتھ ان کا تعلق نہیں رہا ہو گا۔بعض ایسی جگہ پیدا ہوتے ہیں جہاں مسجدیں میسر نہیں آتیں بعض ویسے ہی جنگلوں میں اور بیابانوں میں رہنے والے لوگ ہیں۔تو خدا ان کو بھی نہیں بھولتا، ان کی عبادتوں پر بھی نظر فرماتا ہے لیکن عبادت کا معراج مساجد میں ہے اور مسجدوں میں جو عبادت قائم کی جاتی ہے وہ سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کا الگ ذکر فرمایا کہ وہ شخص جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لگا ہوا ہو اللہ تعالیٰ اسے کبھی نہیں بھولتا اور قیامت کے دن جب کوئی اور سایہ میسر نہیں ہو گا اس وقت خدا اپنا سایہ اسے بھی نصیب فرمائے گا۔پھر فرمایا چوتھے وہ دو آدمی جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اسی پر وہ متحد ہوئے اور اسی کی خاطر وہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔اب محبت کا مضمون تو ہر جگہ دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔بغیر محبت کے بغیر تعلق کے تو انسانی زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے بلکہ حیوانی زندگی کا بھی کوئی تصور نہیں لیکن یہ ایک نیا مضمون ہے کہ آپس کے تعلق خدا کی محبت کے نتیجے میں ہوں۔جہاں تک میرا علم ہے کسی اور مذہب میں اس مضمون کو اس حسن کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا۔ممکن ہے مخفی طور پر اشارے تو ملتے ہوں گے لیکن اس شان اور وضاحت کے ساتھ سوائے حضرت اقدس محمد مصطفی مے کے کسی نے یہ مضمون نہیں باندھا اور کثرت کے ساتھ اس مضمون کو باندھا ہے آپ نے:۔الحب فی الله والبغض في الله (بخاری کتاب الایمان ) اللہ کے نام پر اللہ کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی خاطر بغض کرنا اور اپنے نفس کو اس میں سے مٹادینا یہ ایک بہت ہی اعلیٰ درجہ کی محبت ہے جو انسانی محبتوں میں بہت کم دکھائی دیتی ہے اور اگر یہ محبت روز مرہ کی ہماری زندگی کا حصہ بن جائے یا ہماری محبتوں پر غالب آجائے تو اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک ایسی جنت پیدا ہو سکتی ہے جس کا دوسری قومیں محض اخروی زندگی میں تصور باندھتی ہیں۔لیکن جماعت احمد یہ اگر اس پر عمل کرے اور