خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 199

خطبات طاہر جلد ۶ 199 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء سے پیار کا اظہار کر رہے ہیں۔تو اگر خدا آپ سے پیار کرتا ہے اپنے بندوں اور غلاموں کے طور پر تو اس سے بڑھ کے محبت کا محرک اور کوئی نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ محبت پیدا کرنے کے لئے سب سے زیادہ قوی محرک حسن اور پھر اس کے بعد محبت ہے۔خالی حسن محبت اگر پیدا کرتا بھی ہے تو وہ مستقل حیثیت کی محبت نہیں ہوتی۔جو محبت سب سے زیادہ گہری اور سب سے زیادہ قوی ہے وہ محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کی طرف اشارہ فرما دیا کہ تم تو ان خوش نصیبوں میں سے ہو جن سے خدا پیار کرتا ہے اور ان کے پیار کے نتیجے میں ان کی باتیں پوچھتا ہے اور ان کا ذکر کرنا پسند فرماتا ہے۔پھر اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے بندے کی پاک تبدیلی سے کیسا صلى الله لطف آتا ہے، کیسا وہ حفظ محسوس فرماتا ہے کہ میرا ایک کھویا ہوا بندہ مجھے واپس مل گیا۔آنحضرت مو ایک مسافر کی اور ایک گمشدہ اونٹ کی مثال دیتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کو یہ حادثہ پیش آیا ہو کہ جنگل بیابان میں اس کی اونٹنی گم ہوگئی ہو حالانکہ اس پر اس کا سارا کھانا اور پانی اور ساز وسامان لدا ہوا ہو۔اب بیابان میں خصوصاً عرب کے صحرا اور ریگستانوں میں جہاں درجہ حرارت دن کے وقت ایک سو چالیس تک بھی پہنچ جاتا ہے۔اس صحرا کا تصور باندھیں اور ایک مسافر کسی درخت کی چھاؤں تلے ستانے کے لئے ٹھہرا ہو اور تھوڑی دیر کے لئے اس کی آنکھ لگ جائے وہ جب آنکھ کھولے تو پتا لگے کہ اونٹنی اس کا سازوسامان لے کر اس کا پانی اس کا کھانا لے کر غائب ہوگئی ہے۔کیسی اس کی حالت ہوتی ہوگی؟ فرمایا کہ اسی حالت اور پریشانی میں وہ لیٹ جائے اور تھک کر اسے نیند کا جھونکا آجائے اور جب اچانک آنکھ کھلے تو دیکھے کہ وہ اونٹنی اس کے سامنے کھڑی ہے۔فرمایا جتنا مزہ اس شخص کو آتا ہے اس اونٹنی کو دیکھ کر جتنا لطف وہ محسوس کرتا ہے اس سے زیادہ خدا اپنے تو بہ کرنے والے بندے کے واپس آنے پر محسوس فرماتا ہے۔( بخاری کتاب الدعوات حدیث نمبر: ۵۸۳۳) تو آنحضرت ﷺ کے منہ سے یہ ذکر سن کر کون ہے جو اپنے رب کا عاشق نہ ہو جائے حیرت ہے وہ خالق وہ مالک ہے؟ اس کے سامنے ایک انسان کی ، ایک گناہ گار انسان کی کچھ