خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 198
خطبات طاہر جلد ۶ 198 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء فرشتے کہتے ہیں وہ تیری بخشش طلب کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں نے انھیں بخش دیا اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو انھوں نے مجھ سے مانگا اور میں نے ان کو پناہ دی جس سے انھوں نے میری پناہ طلب کی۔اس پر فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ان میں فلاں غلط کار شخص بھی تھا اور وہاں سے گزرا اور ان کو ذکر کرتے ہوئے دیکھ کر تماش بین کی طور پر ان میں بیٹھ گیا۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میں نے اس کو بھی بخش دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم اور بد بخت نہیں رہتا۔(مسلم کتاب الذکر حدیث نمبر: ۴۸۵۴) پس آپ کو یہ بننا ہے کیونکہ ساری دنیا کو پناہ دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑ ا فر مایا ہے۔وہ فرشتے جو اپنے پروں کے نیچے دوسروں کو لیتے ہیں وہ فرشتے بننا پڑے گا اور ایسے لوگ بننا پڑے گا جن کے ساتھ بیٹھنے والے بھی بدنصیب نہیں رہا کرتے۔اتنا عظیم الشان کام ہے ساری دنیا کو امن دینا اور سکون عطا کرنا اور طمانیت بخشا اور خدا کی رحمت تلے لے آنا کہ اس کے لئے سوائے اس کے کہ آپ خدا کی محبت میں ڈوب جائیں اور کوئی حل نہیں ہے۔اس کا ذکر اس طرح کریں جس ذکر پر خدا کی نظر پڑتی ہے اور یہ جو مضمون حضرت اقدس محمد مصطفی ہو نے کھولا ہے اس میں یہ بات بہت ہی پیاری اور دلنشین ہے۔فرماتے ہیں اللہ کو پتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے نیچے؟ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کے بندے کیا کیا باتیں کر رہے تھے، کیا ان پر گزری، کیا ان کے دل کے اندر تھا۔لیکن پھر بھی پوچھتا ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ خدا کو آپ سے محبت ہے، خدا کو اپنے بندوں سے محبت ہے۔یہ مضمون کی طرز بتا رہی ہے کہ خدا کو جب تک اپنے بندوں سے پیار نہ ہو اس قسم کی بات کر نہیں سکتا۔اپنے روزمرہ کی زندگی کے تجربے میں دیکھیں بسا اوقات کسی بچے سے پیار ہو، کسی دوست سے تعلق ہو، کسی بیوی کو خاوند سے ہو، خاوند کو بیوی سے ہو یا بہن کو بھائی سے ہو یا بھائی کو بہن سے جب بھی وہ اس دیس سے آتا ہے جہاں وہ اس کا پیارا رہتا ہو تو انسان ان باتوں کے علم کے باوجود جو وہاں ہو رہی ہوں بار بار پوچھتا ہے کے وہ کیا کر رہے تھے کیسے تھے کیا حال تھا اور بعض دفعہ ایک بات سننے کے باوجود پھر دہراتا ہے اور پھر سننے کے باوجود پھر سوال دہراتا ہے۔تو یہ خالص محبت کی ادا ہے جس کی طرف حضرت رسول اکرم ﷺ نے یہ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ خدا کو علم تو ہے کہ کیا تھا اور کیا ہورہا ہے لیکن وہ اس ذکر میں لذت پاتا ہے کہ اس طرح میرے کچھ بندے بیٹھے ہوئے میرا ذکر کر رہے ہیں اور مجھے