خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد ۶ 197 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء جو عارف باللہ کے سوا کسی اور کو نصیب نہیں ہو سکتا۔حقیقی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جہاں بھی بخشش کا مضمون بیان فرمایا ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے دل نرم تو ہوتا ہے اور امید بھی پیدا ہوتی ہے بخشش کی لیکن گناہوں کی محبت دل میں پیدا نہیں ہوتی اور اگر بخشش کا مضمون گنا ہوں کی محبت بھی ساتھ پیدا کر دے یا ان پر دلیری پیدا کر دے تو پھر وہ بخشش کا مضمون نہیں ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے مختلف مواقع پر اس توازن کو قائم فرمایا اور ایسے حیرت انگیز طریق پر توازن قائم فرمایا کہ خدا کی بخشش سامنے دکھائی دینے لگتی ہے لیکن ساتھ ہی اس کی پکڑ کا خوف بھی دل پر طاری ہو جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں اور یہ مسلم باب فضل مجلس الذکر سے روایت لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بزرگ فرشتے گھومتے رہتے ہیں اور انہیں ذکر کی مجالس کی تلاش رہتی ہے جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو تو وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں ساری فضا ان کے سایہ برکت سے معمور ہو جاتی ہے جب لوگ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو وہ بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔وہاں اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے، کہاں سے آئے ہو؟ وہ جواب دیتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح کر رہے تھے ، تیری بڑائی بیان کر رہے تھے، تیری عبادت میں مصروف تھے اور تیری حمد میں رطب اللسان تھے اور تجھ سے دعائیں مانگ رہے تھے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ اس پر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ تجھ سے تیری جنت ما نگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس پر کہتا ہے کیا انھوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں اے میرے رب ! انھوں نے تیری جنت دیکھی تو نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی کیا کیفیت ہوگی اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیں۔پھر فرشتے کہتے ہیں وہ تیری پناہ چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس پر کہتا ہے کہ وہ کس چیز سے میری پناہ چاہتے ہیں؟ فرشتے اس پر جواب دیتے ہیں تیری آگ سے پناہ چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا انھوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ فرشتے کہتے ہیں دیکھی تو نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کا کیا حال ہوا گر وہ میری آگ کو دیکھ لیں۔کیسا حسین توازن ہے ان دو چیزوں کے درمیان اور کیسے پیار سے جس طرح بچے کو اصلى الله کوئی لوریاں دے رہا ہو اس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اپنے رب کا ذکر فرماتے ہیں۔پھر