خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد ۶ 15 خطبہ جمعہ ۲ / جنوری ۱۹۸۷ء غربت کے بعض ایسے دور وہاں آئے ہیں قحط کے کہ جن میں پھر جماعت نے فرق نہیں کیا کبھی ہندو اور مسلمان میں۔خدا کے بندوں کو ایسے موقعوں پر پھر ایک ہی نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کو یہ توفیق ملی کہ ان کی بھوک کی شدت کو کم کیا، ان کو زندہ رکھنے کے لئے کم سے کم زندگی کا گزارہ مہیا کیا۔اگر چہ پوری طرح پیٹ بھرنے کی استطاعت ہی نہیں تھی جماعت میں لیکن ان کی مدد کی ان کو وقت کے اوپر وقف جدید کے کارکنان نے ایسی جماعتوں میں پہنچا دیا سندھ کے آباد علاقوں میں، جہاں خدا کے فضل سے ان کے لئے دیکھنے والے، ان کا خوردونوش کا انتظام کرنے والے بھی اور ذریعہ روزگار مہیا کرنے والے لوگ بھی موجود تھے اور جماعتوں نے وقت پران کو سنبھالا یہ بھی بڑی خدمت ہے۔اس دفعہ کی رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی نقالی میں جماعت مودودی بھی اس میدان میں کو دی ہے اور ظاہر بات ہے ان کو روپیہ کہیں سے ملا ہوگا تو انہوں نے اس میدان میں قدم رکھا ہے ورنہ بغیر روپیہ ٹپکے ہوئے تو وہ اس میدان میں نہیں ٹپکا کرتے اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے یہ روپیہ عموما امریکہ کا ہوتا ہے۔پہلے ایک دفعہ سکیم PL80 چلی تھی پاکستان میں کہ امریکہ پاکستان کو گندم کی امداد دے گا اور اس کی آمد امریکہ باہر نہیں لے کر جائے گا بلکہ پاکستان میں خرچ کرے گا۔ان دنوں میں انہوں نے عیسائیوں کے ذریعے ، عیسائی مشنریز کے ذریعے ان ہی علاقوں میں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں بہت رو پی تقسیم کرایا تھا ، بہت خوراک پھینکی تھی اور اس ذریعے سے ان کو عیسائی بنانے کی کوشش کی تھی۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کو خدا نے یہ توفیق بخشی کہ ان کی ساری تحریک کو بالکل ناکام بنا کر رکھ دیا اور ایک آنہ بھی خیرات کا ان کو نہیں دیا، یعنی بغیر پیسے کے پیسے والوں سے مقابلہ کیا اور ان کے ایمان کو بچایا، عیسائی ہونے کی بجائے ان کو مسلمان بننے کی توفیق خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی اور وقف جدید کو اس خدمت کا موقع دیا۔تو اب وہاں غالبا وہی روپیہ، میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن جو حالات نظر آ رہے ہیں، امریکہ جس طرح ان جگہوں پر روپیہ خرچ کرتا ہے ہمیشہ سے وہ مودودی جماعت کے ذریعے تقسیم ہوا ہوگا اگر امریکہ نے نہیں دیا تو زکوۃ میں سے کچھ ملا ہو گا ان کو۔بہر حال جو بھی ہے انفرادی مالی قربانی کا اس میں دخل نہیں ہے۔کہیں سے روپیہ آتا ہے وہ خرچ کرنے کے لئے ایسے لوگ آمادہ ہوتے ہیں جن کو اس میں حصہ بھی ملتا ہے،