خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 14
خطبات طاہر جلد ۶ 14 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء جماعت پر محنت کی ہے، بے انتہاء ایسے خطبات دیئے ، ایسی تقاریر کیں ، ایسے نقطے قرآن کریم کے بیان فرمائے ، ایسی ذاتی مثالیں قائم کیں قربانیوں کی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے فضل کے ساتھ آہستہ آہستہ جماعت کو ایک بہت ہی بلند مقام عطا فرما دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس مقام پر جماعت کو قائم رکھے لمبے عرصے تک اور اس روپے کی حفاظت کرنے والے متقی فرمانبردار کارکن عطا کرتا رہے مجھے تو یہ فکر لگی رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو یہی فکر تھی۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے جب کشفی نظاروں میں بتایا کہ بے انتہاء اموال ہیں جو خدا تعالیٰ جماعت کے قدموں میں ڈالے گا۔تو آپ کو یہ فکر لگی ہوئی تھی کہ کاش! ان اموال کو سنبھالنے والے متقی ، نیک دل لوگ مالوں سے مستغنی خدا کی راہ میں خود بڑھ کر قربانی کرنے والے انکے امین مجھے ساتھ ملیں جو ان اموال کی حفاظت کریں۔(رساله الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه: ۳۱۹) تو اب تو یہ دور آ رہا ہے خدا کے فضل سے ان وعدوں کے پورا ہونے کا اور پھر امانت کے لئے دعا کرنے کا، تقویٰ کے لئے دعا کرنے کا۔تقویٰ سے ہی روپیہ پھوٹتا ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن جب پھوٹتا ہے تو بعض لوگوں کے تقویٰ کو ڈگمگا بھی دیتا ہے، ان کے لئے ابتلاء بھی بن جاتا ہے مگر خدا نہ کرے ایسے کسی دور میں جماعت داخل ہو۔ہم امید کرتے ہیں کہ نہیں ہو گی لیکن دعا ضرور کرنی چاہئے۔آج ہی سے دعا شروع کرنی چاہئے ، آج کے لئے بھی، کل کے لئے بھی اور پرسوں کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں دل اتنے کھول دیئے ہیں، ظرف بڑھا دیئے ہیں، برکتیں دے رہا ہے اموال میں ، ضرورتیں پوری فرما رہا ہے تو وہاں پھر اپنے فضل اور رحم کے ساتھ امین، خدا کا تقویٰ رکھنے والے، خدا کی راہ میں پیسہ پیسہ مناسب جگہوں پر خرچ کرنے والے متقی خادم دین بھی عطا فر ما تار ہے۔وقف جدید کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کثرت سے ایسے خادم دین میسر ہیں جو نہایت قربانی کے ساتھ ، بے نفسی کے ساتھ ، بڑے مشکل حالات میں جماعت کی خدمت کر رہے ہیں اور سارے پاکستان میں بڑی غریبانہ زندگی بسر کرتے ہوئے، بغیر شکوہ زبان پر لائے ہوئے دیہاتی جماعتوں کی حالت سدھارنے میں مصروف ہیں۔اسی طرح ہندوؤں کے علاقے میں انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔اس سال کی جور پورٹ ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب فاقہ کشی تھی اس علاقے میں تو جماعت کی طرف سے بہت خدمت کی گئی ہے ہندوؤں کی بھی اور نو مسلموں کی خاص طور پر مگر