خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 185

خطبات طاہر جلد ۶ 185 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مزید تقویٰ کے انعام کا موجب بنتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو لا متناہی ترقیات کے ساتھ آگے بڑھاتا ہے۔فرماتے ہیں:۔لگاتے ہیں دل اپنا اس پاک سے وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے ایسا پیارا کلام ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت پر ظلم کرنے والے جو زبانیں دراز کرتے ہیں اس ایک شعر کو سادہ سے شعر کو دیکھ لیں اگر دل میں ذرا سا بھی تقویٰ ہو تو یقین کریں کہ نہ صرف متقی بلکہ اعلیٰ درجہ کا عارف باللہ نہ ہو یہ شعر نہیں کہہ سکتا:۔لگاتے ہیں دل اپنا اس پاک سے وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے (در ثمین صفحه: ۱۵) اور خاک میں وہ مضمون آگیا خاکساری کا۔جب تک وہ یہاں رہتے ہیں وہ خاک ہی بنے رہتے ہیں اور دل خدا سے لگائے رکھتے ہیں۔اس خاک سے پھر وہ پاک ہو کر نکل جاتے ہیں اپنے رب کے حضور۔تو اس لئے تقویٰ کے معیار کو تو ابھی بہت بڑھانے کی ضرورت ہے یہ جتنا وقت تھوڑا ہوتا چلا جا رہا ہے میری یہ فکر بڑھتی چلی جارہی ہے، اپنے متعلق بھی اور آپ کے متعلق بھی کہ ابھی ہم ان تقاضوں کو پورا نہیں کر سکے اگر کر دیتے تو بہت ہی عظیم الشان نتائج جو اس وقت نکل رہے ہیں اس سے بھی کئی گنا عظیم الشان نتائج ظاہر ہونا شروع ہو جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس مضمون پر نظم میں بھی اور نثر میں بھی اتنی روشنی ڈالی ہے کہ میں نے موازنہ تو نہیں کیا لیکن میرا اندازہ ہے اگر احمدی محقق موازنہ کر کے دیکھیں تو گزشتہ صدیوں کے جتنے مجددین اور بڑے چوٹی کے علماء، اکابر ہیں ان کے کلام میں آپ کو اجتماعی طور پر بھی اتنا زور تقوی پر نظر نہیں آئے گا۔بھری پڑی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتیں آپ کا منظوم کلام، آپ کی نثر، آپ کے ملفوظات جس میں صرف تقویٰ کے اوپر زور نہیں بلکہ اس کے بار یک تجزیہ کر کے باریک سے باریک خطرات سے بھی آگاہ فرمایا گیا ہے،اس کے نفیس تر تجزیہ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور عارف باللہ کے سوا کوئی اس مضمون کو کھول ہی نہیں سکتا