خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد ۶ 184 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء سے مطمئن نہیں ہوں گے۔یہی سمجھتے رہیں گے کہ نہیں کچھ کمی رہ گئی ، ابھی میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ سے پیار کرنے والے اور حقیقی متقیوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس مضمون کو بیان فرماتے ہیں:۔خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر شار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب اسے دے چکے مال و جاں بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار ( در شین صفحه : ۱۵) ایک دفعہ نہیں بار بارسب کچھ فدا کرنے کا موقع ملتا چلا جاتا ہے اور غم اور فکر یہ لگا ہوا ہے کہ ہم تو نابکا رہی رہے کچھ بھی نہیں کر سکے خدا کے لئے۔یہ وہ تقویٰ کی تعریف ہے جس پہ اگر آپ عمل شروع کر دیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں اور کوئی غم نہیں۔سب کچھ دے چکنے کے بعد احساس عجز دل میں پیدا ہو اور نیکی کے متعلق غرور اور تکبر پیدا نہ ہو بلکہ خیال یہ ہو کہ ہم بہت کچھ کر سکتے تھے جو نہیں کر سکے، جس رنگ میں کر سکتے تھے اس رنگ میں پورا نہیں کر سکے، اس قربانی کے اعلیٰ تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکے۔بہت سے مضمون ہیں جو فرضی نہیں رہتے حقیقی بن جاتے ہیں اور ایک عاجز انسان جانتا ہے کہ میں نہیں کر سکا یہ نہیں کہ وہ مبالغہ کے ساتھ یا منافقت کے ساتھ ایسی باتیں کرتا ہے۔وہ بھی لوگ ہیں جو بظا ہر عجز کی باتیں کرتے ہیں لیکن صاف پتہ چلتا ہے کہ لفاظی ہے اور اس میں لوگ اپنی نیکی کا ہی ڈھنڈورا پیٹتے ہیں یا اپنی بڑائی کا ہی اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم تو کچھ بھی نہیں اور جانتے ہیں لوگ کہیں گے ہاں سب کچھ ہے اور پھر بھی یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ بھی نہیں۔لیکن جن لوگوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ذکر فرما رہے ہیں وہ اور لوگ ہیں وہ واقعہ اپنے اوپر جب گہری نظر ڈالتے ہیں ظلم کی نظر جو میں کہہ رہا ہوں تو ان کو دکھائی دینے لگتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں، محسوس کرنے لگتے ہیں۔اس کے نتیجے میں پھر دل کی بے چینی پیدا ہوتی ہے جو ان کے