خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 182

خطبات طاہر جلد ۶ 182 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء تمنانہ کرو متقیوں کی امامت کی تمنا کرو اور اگر تمہارے پیرو کار متقی ہوں گے تو تمہارے اندر ایک عظمت پیدا ہوگی تمہارے اندر ایک رعب پیدا ہوگا، تمہارے اندر ایک دلیری پیدا ہوگی۔تم جرات کے ساتھ سب دنیا کو چیلنج کر سکو گے کہ آؤ اور ہمارا مقابلہ کر کے دیکھو تم یقیناً شکست کھا جاؤ گے۔پس جب میں جرات کے ساتھ اور بڑے حوصلے کے ساتھ ایسی باتیں کرتا ہوں تو اللہ پر توکل کرتے ہوئے آپ کے تقویٰ پر نظر رکھ کے ایسی باتیں کہتا ہوں اور مجھے پتا ہے کہ خدا اس معاملے میں مجھے کبھی شرمندہ نہیں کرے گا۔اس لئے وہ لوگ جو ہمیشہ کاٹنے والی زبان استعمال کرتے ہیں یا نقص تلاش کرنے والی نظر استعمال کرتے ہیں خود اپنے اوپر اگر وہ یہ کام کرنا شروع کر دیں تو یہ تقویٰ کی جنگ کا بڑا حصہ ہمارے لئے جیتا جائے۔یہ بات بری نہیں ہے۔آپ ظلم کریں بے شک لیکن غیر پہ نہ کریں اپنی جان پر ظلم کریں۔اس مضمون کو قرآن کریم نے کھولا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی شان میں ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب : ۷۳ ) کا لفظ استعمال فرما دیا کہ قرآن کی امانت کے لئے ایک ہی انسان کامل تھا جسے خدا نے اس بات کا حقدار سمجھا کہ اس پر قرآن نازل فرمایا جائے اس لئے کہ وہ ظَلُومًا جَهُولًا تھا۔بعض لوگ تفسیر کرنے والے لرزے میں مبتلا ہو جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ مضمون چل رہا ہے قرآن کریم کی عظیم امانت کا اور آگے ظَلُومًا جَهُولًا ابیان ہو گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہاں ظل ظَلُومًا سے مراد غیروں پر ظلم کرنے والا نہیں بلکہ نیکی اور بھلائی کی خاطر اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور جھولا سے مراد یہ نہیں کہ اسے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ دنیا تباہی میں مبتلا ہوتی ہے یا اس پر کیا گزرتی ہے بلکہ نیکی کی خاطر اپنے نفس کو ہلاک کرنے کے معاملے میں بالکل مستغنی ہو چکا ہے۔اسے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے ( تفسیر حضرت مسیح موعود ، سورۃ الاحزاب، جلد سوم صفحہ ۷۳۲)۔چنانچہ اس مضمون کی گواہی خدا نے خود قرآن کریم میں دی ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء:۴) اپنے آپ کو تو ہلاک کر لے گا اس لئے کہ دنیا حق کا کلہ نہیں پڑھ رہی۔تو ظلم اچھی چیز ہے اگر اپنی برائیوں پر ظلم کیا جائے ، اپنی کوتاہیوں پر ظلم کیا جائے اور اپنے نفس پر ان معنوں میں ظلم کیا