خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 180
خطبات طاہر جلد ۶ 180 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء نا کردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب! اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے (دیوان غالب صفحه : ۳۴۶) کہتا ہے میرا سر دامن بھی ابھی تر نہیں ہوا تھا میری زندگی کا دور ختم ہو گیا اور گناہوں میں میرا سردامن بھی ابھی تر نہیں ہوا تھا۔یہ بھی ایک سادگی ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا دوستم کے انسانوں پر مشتمل ہے بعض بدیوں کی تمنار کھتے ہیں اور ان کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ان کے لئے جو ان کی بداعمالیوں کے رستے میں جو روک ہے وہ ان کی بے چارگی ہوتی ہے۔بس چلے تو ایسے ایسے لوگ ہیں جو دنیا کے ہر انسان کا سارا مال کھا جائیں ، ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کے سب حقوق غصب کر لیں۔اپنی ترقی کی خاطر کسی کو تنزل کے گڑھے میں دھکیلنا پڑے تو کوئی اس میں عارنہ سمجھیں کوئی بات نہ سمجھیں لیکن بے اختیاری ہے ہر تمنا بدن کی پوری ہو ہی نہیں سکتی اگر اس طرح پوری ہونے لگے تو دنیا تو آنا فانا ختم ہو جائے۔ان کے اندر بھی مخفی بد ہیں اور ظاہری بد ہیں۔غیر متقیوں میں بھی بہت بڑی تعداد ہے جن کی بدی چھپی پڑی ہوئی ہے اندروہ دبی ہوئی ہے وہ وقت آنے پر ایک دم جلوہ دکھاتی ہے اپنا اور جب وقت ملتا ہے اسی وقت سراٹھاتی ہے جس حد تک تو فیق اس کو ملتی ہے بدی کی تو ضرور اپنے شر کو ظاہر کر کے چھوڑتی ہے۔اس کے مقابل پر کچھ متقی ہیں جن کی تمنائیں نیکی کے لئے ہیں۔ان میں بھی کمزوریاں ہیں لیکن وہ کمزوریوں سے ہمیشہ ایک دکھ میں مبتلا رہتے ہیں اور ایک قسم کے عذاب میں مبتلا رہتے ہیں اور کوئی بعید نہیں کہ ان کا اسی دنیا میں جو عذاب ہے وہی ان کے لئے بخشش کا موجب بن جائے وہی ان کے لئے اللہ کی رحمت حاصل کرنے کی موجب بن جائے اور جب میں کہتا ہوں کوئی بعید نہیں تو اپنی طرف سے نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ارشاد کے مطابق کہہ رہا ہوں۔آپ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ وہ بے انتہا گناہگار تھا اتنا گناہگار تھا کہ اس سے زیادہ گناہ کا تصور نہیں۔مرتے وقت اس نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ تم میری لاش کو جلانا اور ایسا جلانا کہ خاک کر دینا اس کو ، راکھ بنا دینا اور پھر اس راکھ کو چاروں طرف ہواؤں میں اڑا دینا کچھ کو پانی میں کچھ کو ہواؤں میں تا کہ ہر طرف یہ بکھر جائے اس کا کوئی نشان باقی نہ رہے گا اور یہ نصیحت کر کے کچھ عرصے کے بعد وہ مرگیا اس کی