خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 178

خطبات طاہر جلد ۶ 178 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء گندہ دکھائی دینے لگ جاتا ہے۔ عجیب حالت ہے ان کی جہاں رہے، جہاں تعریفیں کیں جہاں جماعت کے گن گائے وہاں ایک شخص نے ان سے بدسلوکی کر دی تو یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ صرف کھوکھلی ہے جماعت اس کے اندر کچھ بھی نہیں ہے۔ غیر متقیوں کا ٹولہ ہے ہم نے تو آزما کر دیکھا فلاں شخص نے ہمارے پیسے کھا لئے اور یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ اس نے نے واقعہ واقعہ کھائے بھی ہوں ۔ جب تحقیق کی جاتی ہے تو بعض دفعہ بالکل برعکس شکل نظر آتی ہے۔ مجھے ایک شخص کے خط آنے شروع ہوئے کہ جماعت کا کیا حال ہے، آپ کہتے ہیں جماعت متقی ہے اور وہ غیروں سے افضل اور آگے بڑھ گئی ہے۔ فلاں شخص سے میرا معاہدہ ہوا اور اس نے میرے روپے دبا دیئے ، اب بھی اس کی عزت ہے جماعت میں اور اب بھی وہ اس نے اپنی طرف سے کہا کہ چوہدری بنا پھرتا ہے اور کوئی نظام نہیں ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہیں ہے، غریبوں کے لئے پکڑ رہ گئی ہے امیروں کے لئے کوئی پکڑ نہیں ، اس مضمون کے خط لکھنے شروع کئے ۔ میں نے ایک کمیشن مقرر کیا اور بالکل غیر جانبدار کمیشن جس کو سختی سے تاکید کی کہ تم نے قطعاً کوئی پرواہ نہیں کرنی کوئی کسی مقام کا آدمی ہے لازما خالص تحقیق کر کے مجھے بتانی ہے۔ یہ میں دیکھوں گا کہ کس طرح کوئی بظاہر بڑا ہو کر کسی غریب پر ظلم کرتا ہے۔ ان کی تحقیق جس کے ساتھ قطعی ثبوت تھے اس نے ثابت نے ثابت کیا کہ وہ شخص جو شکایت کنندہ ہے اس نے اتنی رقم اس کی دینی ہے اور جب اس پر ایکشن لیا گیا تو اب اس کا رنگ اور بدلا ہوا ہے کہ رحم بھی تو کوئی دنیا میں ہوتا ہے کسی غریب پر ہمدردی کرنی چاہئے۔ اپنی ذات پر آکر بالکل رنگ ہی بدلتے جاتے ہیں تقویٰ کی تعریفیں بدلتی چلی جاتی ہیں۔ یہ ایسے شخص وہ ہیں جن کا عام حالات میں پتا نہیں چلتا۔ عام حالات میں ٹھیک رہتے ہیں ۔ ربوہ کے متعلق بعض خط ایسے آیا کرتے تھے بے انتہا تعریف کے، جماعت کی سوسائٹی کی تعریف کے، بہت اچھی جماعت ما شاء اللہ فلاں نے یہ کر دیا اور فلاں نے یہ کر دیا۔ کسی معاملے میں نظام جماعت نے پکڑ کی تو ایسے خط آنے لگے کہ تقویٰ کا نشان تک نہیں ملتا اس شہر میں ۔ ہر شخص بد دیانت، ہر شخص بلا پر واہ ، جتنا بڑا آدمی اتنا بڑا منافق ۔ اچانک ایک رات میں یہ کیسے انقلاب بر پا ہو گیا ؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ کا مضمون بہت ہی بار یک نگاہ سے دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بعضوں کے تقویٰ پر خدا کی ستاری کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور اللہ ان پردوں کو سلامت رکھے تو ٹھیک