خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 177
خطبات طاہر جلد ۶ 177 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء حیثیت نہیں۔لیڈرشپ میں تقویٰ سے قوت پیدا ہوتی ہے اور ہر تقویٰ کا اپنا الگ الگ میدان ہے۔انسانی زندگی میں جو مذہب کے علاوہ مضامین ہیں ان کے اندر بھی تقویٰ کا مضمون چلتا ہے۔جو سیاست ہے اس میں اگر قوم اپنے مقصد کے طرف مخلص نہ ہو، اپنے وطن کی محبت میں مخلص نہ ہو تو وہ غیر متقی قوم ہے۔اس کے لیڈر ہزار کوشش کریں ان کے اندر کوئی مستقل تبدیلی، کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔ایک شور ڈالتے رہیں گے وہ، منہ سے جھاگ بھی نکالتے رہیں گے لیکن قوم جیسا کہ بے عمل تھی ویسی ہی بے عمل رہے گی کیونکہ خالی سٹاٹر ہے ان کے پاس اور وہ زادِ راہ نہیں ہے جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا وَ تَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى - اسی طرح مذہب کی دنیا میں بھی یہی حال ہے اور تقویٰ کے نتیجے میں ہی قومیں آگے بڑھا کرتی ہیں۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک وہ جنہیں اپنے تقویٰ کی فکر رہتی ہے۔وہی ہیں جو حقیقت میں ہدایت پانے کے اہل ہیں اور ایک وہ ہیں جو دوسرے کے تقویٰ کی فکر نہیں کرتے بلکہ دوسرے کی برائیوں کا کھوج نکالنے کی فکر میں رہتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے اپنا تقویٰ رکھ لیا ہے اور غیر میں تقویٰ کی تلاش رہتی ہے حالانکہ تقویٰ کی تلاش سے نہ ان کا تعلق ہوتا ہے، نہ ان کو اپنے تقویٰ کی کوئی فکر ہوتی ہے اور ان کو ہر طرف برائی ہی برائی دکھائی دیتی ہے لیکن اس قسم کے لوگوں میں آگے پھر دوگروہ ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم ہے اور دن بدن کم ہوتی چلی جارہی ہے جو محض تخریب کے لئے تنقید کرتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو میں نے پچھلے چند سالوں میں محسوس کیا کہ غیر معمولی طور پر جماعت میں اس بات کی طرف دھیان منتقل ہو رہا ہے کہ ہم اپنی فکر کریں اور وہ جو زبانیں پہلے تنقید کے لئے بے دھڑک چلا کرتی تھیں یا وہ قلم جو تنقید کے لئے بے ساختہ بے لگام ہو جایا کرتے تھے ان میں بڑا فرق پڑتا چلا جا رہا ہے۔ان زبانوں میں، ان قلم کی تحریروں میں ادب آنا شروع ہو گیا ہے اپنی ذات کی فکر پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے لیکن ایک اور ایسا طبقہ ہے جس کے اندر مخفی نقص ہیں اور جس کا مطلب یہ ہے کہ تقوی گہرا نہیں ہے اور کھوکھلا ہے اور وہ مخفی نقص اس طرح ظاہر ہوتے ہیں کہ ا یک معاشرے میں وہ رہتے چلے جارہے ہیں انہیں کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی۔جب کسی شخص سے ان پر حملہ ہو، کوئی ان کے روپے کھا جائے ، کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرے تو اچانک سارا معاشرہ ان کو