خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 168

خطبات طاہر جلد 1 168 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء آں ترتم ہا ، کہ خلق اس وے پدید گس ندیده، در جہاں از مادری صلى الله در ثمین فارسی صفحه : ۶-۷ ) کہ میرا تو یہ حال ہے محمد مصطفی ﷺ کے عشق میں کہ ہمیشہ اس کے کوچے کی طرف اپنے آپ کو صلى الله اڑتا ہوا پاتا ہوں گویا کہ ہمیشہ حضوراکرم ﷺ کے تصور میں آپ کے وجود کی طرف اڑتا ہوا چلا جارہا ہوں۔ من اگر میداشتم، بال و پرے کاش میرے وجود کو میرے جسم کو اگر یہ بال و پر مل جاتے یہ ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا ۔ یعنی روحانی حالت میں تو ہر وقت اسی سمت میں جاری وساری ہوں لیکن من اگر میداشتم، بال و پرے کیسا پیارا مصرع ہے۔ کاش! ایسا ہوتا میرے جسم کو بھی یہ طاقت ہوتی تو میں آج محمد مصطفیٰ صلى الله کے جسم کی طرف اسی طرح اڑتا ہوا چلا جاتا۔ ختم شد ، بر نفس پاکش، هر کمال لا جرم شد ختم ہر پیغمبری در ثمین فارسی صفحه: ۵) آپ کے پاک نفس پر ہر کمال ختم ہو چکا ہے۔ بے شبہ آپ پہ ہر پیمبری ختم ہے اور ہر پیغمبر ختم ہے۔ اگر پیغمبری پڑھا جائے ان معنوں میں تو مراد یہ ہوگی کہ پیغمبری ختم ہو گئی مگر ویسے لا جرم شد ختم صلى الله علی ہر پیغمبری کا مطلب ہے کہ ہر دوسرانی حضرت مے کے بعد ختم ہو چکا سوائے آپ کے ہر دوسرا نب ختم ہے۔ ، آں ترتم ہا ، کہ خلق اس وے پدید گس ندیده، در جہاں، از مادرے صلى الله کہ وہ رحمتیں جو مخلوق خدا نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے مشاہدہ کیں کسی نے کبھی اپنی ماں سے ایسی رحمتیں نہیں پائیں۔ پھر فرماتے ہیں:۔