خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد ۶ 167 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء دیا ہے اس شکل وصورت کو۔چونکہ اکثر مخاطب وہی ہیں اس لئے میں انہیں کی طرز میں پڑھوں گا یہ:۔در دلم جوشد ثنائے سرورے آنکه در خوبی ندارد ہمسرے آنکه جانش عاشق یا رازل آنکه روحش ، واصل آں دلبری (در مشین فارسی صفحه: ۵) میرے دل میں ” سرورے“ ایک سرور ایک آقا ایک سردار کا عشق جوش مار رہا ہے اس کی ثناء میرے دل میں جوش مار رہی ہے۔کون ہو ہے وہ در خوبی ندارد ہمسرے“ کہ اس کی خوبی میں کوئی بھی اس کا ثانی کوئی بھی شریک نہیں ہے اس دنیا میں انسانوں میں۔وہ ایک یکتا و تنہا ہے اس جیسا کوئی اور نہیں۔آنکه جانش عاشق بارازل مجھے اس سے یہ نسبت کیوں ہے اس لئے کہ خود وہ یار ازل“ کا ایک عاشق صادق ہے، اس کی ساری جان اپنے خدا پر عاشق ہو چکی ہے۔آنکه روحش، واصل آں دلبرے میرا محبوب کون ہے وہ کہ جس کی روح ” آس دلبر یعنی اللہ کی ذات میں پوری طرح کھوئی گئی ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔در ره ره عشق محمد ، ایس سرو جانم رود ایں تمنا ، ایں دعا ، ایس در دلم عزم صمیم کہ محمد مصطفی ﷺ کی عشق کی راہ میں ” این سرو جانم رود یہ ( درشین فارسی صفحه ۱۰۲) میری جان اور یہ میرا سر فدا ہو جائے ، جاتا رہے اس راہ میں۔ایس تمنا، یہ میری تمنا اور ایں دعا، یہ میری دعا ہے ای در دلم عزم صمیم“ اور میرے دل میں یہی عزم صمیم بھی ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔مے پریدم، سُوئے گوئے اُو مُدام من اگر میداشتم، بال و پرے ختم مهد ، بر نفس پاکش، ہر کمال لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے