خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 166

خطبات طاہر جلد ۶ 166 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء کون سے ایسے ہیں جو بیچ میں سے سعید روح رکھتے ہیں اور انجانی کی بات کرتے ہیں ہمیں علم نہیں۔اس لئے دل آمادہ نہیں ہوتا کہ ان پر کلیہ ایسی لعنت ڈالی جائے لیکن اب میں جو پیشکش کر رہا ہوں اس کا تو یہ مطلب ہے کہ اگر ان میں سے کوئی جرات مند ہے تو وہ خود آگے آئے ہم لعنت نہیں ڈالتے ، خود آگے آئے اور اپنے دعوی کی تائید میں اپنے اوپر اگر جھوٹا ہے تو لعنت ڈالے۔اس کی اگر ان میں جرات ہے تو آئیں اور آپ دیکھیں گے خدا کی تقدیر کس طرح ان کو ذلیل ورسوا کر دکھاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسا عاشق صادق کوئی اور لا کے تو دکھائیں کہیں سے۔چودہ سوسال گواہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسا محبت اور عشق کا معاملہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے کیا اس کی کوئی نظیر نظر نہیں آتی۔حیرت انگیز عشق ہے حیرت انگیز فدائیت ہے۔نظم کا کلام ہو یا نثر کا کلام ہو بالکل ایک ایسا تعلق ہے کہ کوئی شریف النفس انسان ذرا سا بھی نگاہ رکھے حیران ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص کسی کے عشق میں اس طرح دیوانہ ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے منصف مزاج غیر احمدی مسلمانوں نے جو پہلی نسلوں میں زیادہ نظر آیا کرتے تھے باوجود اختلاف عقیدہ کی یہ ہے عاشق رسول جو اس کو کہہ لو اور ان کی کتابوں میں ابھی تک یہ باتیں لکھی ہوئی موجود ہیں۔شدید مخالفت رکھنے والے علماء ان کے پاس پہنچتے رہے اور کوشش کرتے رہے ان سے کفر کے فتوے لیں۔انہوں نے کہا نہیں ایک بات بہر حال پکی ہے کہ جو کچھ بھی کہو جتنا چاہو اختلاف رکھو یہ ہے عاشق رسول عل محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں دیوانہ ہوا ہوا ہے۔آپ کے کلام کو تفصیل سے پیش کرنے کا تو وقت نہیں ہے جو اشعار لا یا تھا لکھ کر بعض نمونے کے طور پر یا عبارتیں ان میں سے چند آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق سے آپ کی بھی روح معطر ہو، آپ کو بھی پتہ لگے کہ کس آقا کا آپ نے دامن پکڑا ہے اور اس کو آنحضرت ﷺ سے کیسی فدائیت اور عشق کی ایک نسبت تھی۔در دلم جوشد ثنائے سرورے سرورے پڑھتے ہیں ہمارے ہندوستان وغیرہ کے فارسی دان اور اگر فارسی طرز میں پڑھا جائے تو ”سروری پڑھا جائے گا مگر اس پر پھر وہ بڑا ناراض ہوتے ہیں اگر میں اس کو ایرانی تلفظ پڑھنے کی کوشش کروں تو ہمارے اہل علم فارسی دان جو ہندوستان پاکستان ہیں وہ کہتے ہیں تم نے کیا ستیا ناس کر دیا ہے بگاڑ