خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد ۶ 165 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء صلى الله عروسه کے حرف ہیں اور ج اور جس قدر آنحضرت کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں ۔ کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں اور جو کوئی ایسا خیال کرتا ہے خود اس کی غلط فہمی ہے اور جو شخص مجھے اب بھی کافر سمجھتا ہے اور تکفیر سے باز نہیں آتا یقیناً یا د رکھے کہ مرنے کے بعد اس کو پوچھا جائے گا“۔ (کرامات الصادقين ، روحانی خزائن جلدے صفحہ : ۶۷) وو جواب میں قوت ہے، شان ہے اور لیکن ساتھ ایک رحم کا کا پہلو بھی ہے مرنے کے بعد اس کو پوچھا جائے گا لیکن یہ لوگ اتنے بے باک ہو چکے ہیں کہ اب تو ان کو یہ کہنا چاہئے کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو خدا اس دنیا میں بھی ہمیں پوچھے۔ اب تو اس شخص کی نہج پہ یہ چل پڑے ہیں جس نے یہ کہا تھا کہ اس دنیا میں بھی پھر ہم پر پتھراؤ ہو اور آسمان پتھر برسائے۔ اس لئے جب اس قدر بے باکی اختیار کر چکے ہیں تو پھر آگے بڑھیں اور یہ اعلان کریں خدا کی صلى الله قسمیں کھا کے کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو اللہ اس دنیا میں ہم پر لعنت ڈالے اور ہمیں برباد اور ذلیل ورسوا کردیا کر دے اگر ہم اس دعوی میں جھوٹے ہیں کہ احمد محمد مصطفی ﷺ کا کلمہ نہیں پڑھتے بلکہ مرزا غلام احمد کا کلمہ پڑھتے ہیں ، دین محمد کے قائل نہیں بلکہ ایک اور دین بنایا ہوا ہے، قرآن کے قائل نہیں بلکہ ایک اور کتاب ہے جو قرآن کے برخلاف اور اس سے جدا ایک الگ کتاب بنائی گئی ہے۔ ان کی شریعت بہائیوں کی طرح مختلف شریعت ہے ان کا خدا اور ہے ان کا رسول اور ہے بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نعوذ بالله من ذالک یہ محمد رسول اللہ سے افضل ہی نہیں بلکہ خدا مانتے ہیں۔ یہ سب باتیں یہ سب بکواس اسی کتاب میں موجود ہے۔ تو پھر یہ کر لیں اور اگر یہ کر کے دکھا ئیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی قہری تحلی ضرور ظاہر ہو گی آپ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے کہ کس طرح خدا کی تقدیر ان کے پر خچے اڑا کے رکھ دے گی اور ذلیل ورسوا اور نا کام کر کے دکھائے گی۔ ناکامی تو بہر حال ان کے مقدر میں ہے لیکن ہم یہ تو منتیں کرتے ہیں اور اسی کی ہمیشہ خدا سے توقع رکھتے ہیں کہ ان کو خدا ہدایت دے، اللہ ان پر رحم فرمائے یہ اپنی بدیوں سے باز آجائیں اور یہ ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ہم خدائی اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے ۔ آنحضرت کو تو خدا نے خود روک دیا تھا لیکن ان کے متعلق کہ ان میں سے کون سے ایسے ہیں جو مہر زدہ ہیں اور